ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- بَصِيرَةٌ: گواہ، شاہد۔ اس سے مراد انسان کے اعضاء و جوارح اور اللہ کے مقرر کردہ فرشتے ہیں۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے۔ یعنی انسان کے ہاتھ، پاؤں، آنکھیں، کان اور جلد سب اس کے اعمال پر گواہی دیں گے۔ قیامت کے دن جب انسان اپنے جرائم کا انکار کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے اپنے اعضاء کو بولنے کی طاقت دے گا اور وہ اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ نیز اللہ کے مقرر کردہ فرشتے جو انسان کے اعمال لکھتے ہیں، وہ بھی گواہ ہوں گے۔
یہ حقیقت ہے کہ انسان اپنے حال کو سب سے بہتر جانتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس نے کیا کیا اور کیا چھوڑا۔ اگر وہ کوئی معذرت یا بہانہ پیش کرے تو بھی اس کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ اس کا اپنا ضمیر، اس کے اعضاء اور اللہ کے فرشتے سب اس کے خلاف گواہی دیں گے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اپنے اعمال پر نظر رکھیں۔ ہم دوسروں سے اپنے اعمال چھپا سکتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ سے کچھ نہیں چھپ سکتا۔ ہمارا اپنا جسم ہمارے خلاف گواہی دے گا۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق گزاریں، نیکیاں کریں اور گناہوں سے بچیں۔ یہ آیت ہمیں حساب کے دن کی یاد دلاتی ہے اور ہمیں اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ ہم اپنے اعمال کو سنواریں، کیونکہ ہم خود اپنے خلاف گواہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ رحم کرنے والا ہے، توبہ کرنے والوں کو قبول کرتا ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی غلطیوں سے توبہ کریں اور اللہ کی طرف رجوع کریں۔
📜 آیت 12-16 — قیامت
ترجمہ — قیامت 14
سورہ قیامت آیت 14 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہےسورہ آیت 14/40 — قیامت القيامة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قیامت سنیں, قیامت ترجمہ, قیامت mp3, قیامت pdf. آیت 12–16. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








