ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- یَخْشَىٰ: ڈرنا، خوف کھانا، اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنا۔
تفسیر:
یہ آیت اس شخص کا ذکر کر رہی ہے جو رسول اللہ ﷺ کے پاس آتا ہے، حالانکہ وہ پہلے سے نیک نیت رکھتا ہے اور ہدایت حاصل کرنے کا حریص ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، اپنے تقصیر اور کوتاہی پر شرمندہ ہے، اور اپنے رب کی خشیت اس کے دل میں رچی بسی ہے۔ یہ وہ شخص ہے جو آپ ﷺ کے پاس اس لیے آیا تھا کہ آپ سے علم حاصل کرے، اپنے دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرے، اور اپنی زندگی کو سنوارے۔ لیکن آپ ﷺ اس وقت ایک دوسرے کام میں مشغول تھے، جس کی وجہ سے اس شخص سے توجہ ہٹ گئی۔
اللہ تعالیٰ اس آیت میں اس شخص کی تعریف کر رہے ہیں اور اسے اہمیت دے رہے ہیں، کیونکہ وہ خشیتِ الٰہی رکھتا ہے۔ یہاں یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اس کی طرف توجہ دینا بہت بڑی فضیلت ہے۔ خشیتِ الٰہی وہ نور ہے جو دل کو روشن کرتا ہے، انسان کو نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور اسے برائیوں سے بچاتا ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خشیت کتنی بڑی نعمت ہے۔ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، وہ دنیا میں عزت والا ہے اور آخرت میں کامیاب ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں میں اللہ کا خوف پیدا کریں، اپنے اعمال کی اصلاح کریں، اور ہر وقت یاد رکھیں کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ یہ خشیت ہی ہے جو انسان کو جنت کی طرف لے جاتی ہے اور جہنم سے بچاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی خشیت عطا فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو اس سے ڈرتے ہیں اور اس کی رضا کے طلبگار ہیں۔ آمین۔
📜 آیت 7-11 — عبس
ترجمہ — عبس 9
سورہ عبس آیت 9 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور (خدا سے) ڈرتا ہےسورہ آیت 9/42 — عبس عبس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: عبس سنیں, عبس ترجمہ, عبس mp3, عبس pdf. آیت 7–11. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








