Wa minhum mai yalmizuka fis sadaqaati fa-in u`too minhaa radoo wa illam yu`taw minhaaa izaa hum yaskhatoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور ان میں سے بعض اسے بھی ہیں کہ (تقسیم) صدقات میں تم پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ اگر ان کو اس میں سے (خاطر خواہ) مل جائے تو خوش رہیں اور اگر (اس قدر) نہ ملے تو جھٹ خفا ہو جائیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
بعضى از ايشان تو را در تقسيم صدقات به بيداد متهم مىكنند، اگر به آنها عطا كنند خشنود مىشوند و اگر عطا نكنند خشم مىگيرند.
اور ان میں سے بعض اسے بھی ہیں کہ (تقسیم) صدقات میں تم پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ اگر ان کو اس میں سے (خاطر خواہ) مل جائے تو خوش رہیں اور اگر (اس قدر) نہ ملے تو جھٹ خفا ہو جائیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
يَلْمِزُكَ: آپ پر عیب لگاتا ہے، طعنہ دیتا ہے۔
الصَّدَقَاتِ: زکوٰۃ اور صدقات (مالِ خداوندی جو غریبوں اور مستحقین میں تقسیم کیا جائے)۔
يَسْخَطُونَ: غصہ ہوتے ہیں، ناراض ہوتے ہیں، برا مانتے ہیں۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ منافقوں کے ایک اور قابلِ مذمت کردار سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نبیِ اکرم ﷺ پر الزام لگاتے ہیں کہ آپ صدقات اور زکوٰۃ کی تقسیم میں انصاف نہیں کرتے۔ حالانکہ آپ ﷺ اللہ کے حکم سے ہی اس مال کو تقسیم کرتے تھے، اور آپ کی تقسیم میں کوئی کمی یا زیادتی نہیں ہو سکتی تھی۔ لیکن ان منافقوں کا مقصد آپ کی ذاتِ گرامی کو بدنام کرنا اور لوگوں کے دلوں میں آپ کے بارے میں شکوک پیدا کرنا تھا۔
ان کی اصلیت یہ ہے کہ اگر انہیں اس مال میں سے کچھ دے دیا جائے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں اور آپ کی تعریف کرنے لگتے ہیں، لیکن اگر انہیں کچھ نہ ملے تو فوراً ناراض ہو جاتے ہیں اور آپ پر اعتراض کرنے لگتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا تعلق دین سے نہیں بلکہ دنیا سے ہے۔ وہ دین کو اپنے مفادات کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں، نہ کہ دین کو اپنا مقصد۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ مومن کا معیار رضائے الٰہی ہوتا ہے، نہ کہ دنیاوی مفادات۔ مومن اللہ کے حکم پر راضی رہتا ہے، چاہے اسے دنیاوی فائدہ ملے یا نہ ملے۔ وہ اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتا ہے اور ان کے فیصلوں پر اعتماد کرتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جو کچھ بھی کرتے ہیں، اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں منافقوں کے اس کردار سے بچائے اور ہمیں سچے مومنوں کی صفات عطا فرمائے، جو رضائے الٰہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ آمین۔
اور ان میں سے بعض اسے بھی ہیں کہ (تقسیم) صدقات میں تم پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ اگر ان کو اس میں سے (خاطر خواہ) مل جائے تو خوش رہیں اور اگر (اس قدر) نہ ملے تو جھٹ خفا ہو جائیں
اور اگر وہ اس پر خوش رہتے جو خدا اور اس کے رسول نے ان کو دیا تھا۔ اور کہتے کہ ہمیں خدا کافی ہے اور خدا اپنے فضل سے اور اس کے پیغمبر (اپنی مہربانی سے) ہمیں (پھر) دیں گے۔ اور ہمیں تو خدا ہی کی خواہش ہے (تو ان کے حق میں بہتر ہوتا)
صدقات (یعنی زکوٰة وخیرات) تو مفلسوں اور محتاجوں اور کارکنان صدقات کا حق ہے اور ان لوگوں کا جن کی تالیف قلوب منظور ہے اور غلاموں کے آزاد کرانے میں اور قرضداروں (کے قرض ادا کرنے میں) اور خدا کی راہ میں اور مسافروں (کی مدد) میں (بھی یہ مال خرچ کرنا چاہیئے یہ حقوق) خدا کی طرف سے مقرر کر دیئے گئے ہیں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔