ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- انبعث: اٹھ کھڑا ہوا، تیزی سے آگے بڑھا، جلدی سے اُٹھ کر دوڑا۔
- أشقاها: اس قوم کا سب سے زیادہ بدبخت اور شقی ترین فرد۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قومِ ثمود کے انجام کو بیان فرمایا ہے۔ جب انہوں نے اپنے نبی حضرت صالح علیہ السلام کی دعوت کو جھٹلایا اور اپنی سرکشی میں حد سے گزر گئے، تو ان میں سے ایک انتہائی بدبخت اور شقی انسان اُٹھ کھڑا ہوا۔ یہ وہ شخص تھا جسے قوم نے اس کام کے لیے چنا تھا، یا وہ خود ہی اس برے کام کے لیے آگے بڑھا۔ اس نے ناقۃ اللہ (اللہ کی اونٹنی) کو مار ڈالنے کا بیڑا اٹھایا۔
یہاں اللہ تعالیٰ اس بات کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں کہ جب قوم کی ساری شرارت اور سرکشی اپنے عروج پر پہنچ گئی، تو ان میں سے سب سے زیادہ بدبخت شخص اس سنگین جرم کے لیے اُٹھ کھڑا ہوا۔ اس سے پہلے حضرت صالح علیہ السلام نے انہیں سختی سے منع کیا تھا کہ اللہ کی اونٹنی کو کوئی نقصان نہ پہنچائیں، لیکن انہوں نے نہ مانا اور اسے مار ڈالا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جب کوئی قوم حق کو جھٹلا دیتی ہے اور اپنی سرکشی میں حد سے بڑھ جاتی ہے، تو اللہ تعالیٰ ان پر ایسا عذاب نازل فرماتا ہے جس سے کوئی بھی نہیں بچ سکتا۔ یہ ہمارے لیے ایک عبرت ہے کہ ہم کبھی اپنے نفس کی خواہشات کے پیچھے نہ پڑیں اور اللہ کے احکام کی خلاف ورزی سے بچیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر بہت رحم فرمایا ہے، لیکن جب حد سے تجاوز کیا جاتا ہے تو اس کی پکڑ بہت سخت ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے نبی ﷺ کی سنت پر عمل کریں اور اللہ کی نافرمانی سے بچیں، تاکہ ہم اس عذاب سے محفوظ رہیں جو پہلی قوموں پر آیا۔
📜 آیت 10-14 — شمس
ترجمہ — شمس 12
سورہ آیت 12/15 — شمس الشمس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شمس سنیں, شمس ترجمہ, شمس mp3, شمس pdf. آیت 10–14. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








