ترجمہ — Tafsir
اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر جو عظیم احسانات کیے ہیں، ان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
"جس نے آپ کی کمر کو بوجھ تلے جھکا دیا تھا۔"
یہاں "نقیض" کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے کمر کی ہڈیوں کا اس شدت سے بوجھ تلے دبنا کہ اُن سے آواز آنے لگے۔ اس سے مراد وہ عظیم ذمہ داریاں اور تکالیف ہیں جو رسالت کے منصب کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر عائد تھیں۔
یہ وہ بوجھ تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی ہدایت، دعوتِ توحید اور اصلاحِ خلائق کی خاطر اٹھایا تھا۔ کفار کی ایذائیں، تکذیب، اور دعوتِ اسلام کی مشکلات — یہ سب اس بوجھ کا حصہ تھیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اس بھاری بوجھ کو آپ سے ہلکا فرما دیا، اور آپ کو وہ قوت اور صبر عطا فرمایا جو اس عظیم مشن کی تکمیل کے لیے ضروری تھا۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو کوئی بڑی ذمہ داری دیتا ہے، تو وہ اسے اٹھانے کی طاقت بھی عطا فرماتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اس کی روشن مثال ہے — آپ نے مشکلات کا مقابلہ کیا، لیکن اللہ کی مدد ہمیشہ آپ کے ساتھ رہی۔
ہمیں بھی اپنی زندگیوں میں جب بھی کوئی مشکل یا بوجھ محسوس ہو، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہیے، کیونکہ وہی ہے جو بوجھ ہلکا کرنے والا اور دل کو وسعت دینے والا ہے۔ یہ آیت ہمارے لیے ایک پیغام ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ وہ اپنے بندوں کی مشکلات کو آسان فرمانے والا ہے۔
📜 آیت 1-5 — شرح
ترجمہ — شرح 3
سورہ شرح آیت 3 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جس نے تمہاری پیٹھ توڑ رکھی تھیسورہ آیت 3/8 — شرح الشرح (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شرح سنیں, شرح ترجمہ, شرح mp3, شرح pdf. آیت 1–5. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








