اسی طرح خدا کا ارشاد ان نافرمانوں کے حق میں ثابت ہو کر رہا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
حَقَّتْ: ثابت اور لازم ہو گئی۔
کَلِمَتُ رَبِّکَ: اللہ کا فیصلہ اور حکم۔
فَسَقُوا: جو اللہ کی اطاعت سے نکل کر گناہوں اور کفر میں مبتلا ہو گئے۔
تفسیر:
اے نبی کریم ﷺ! جس طرح اللہ تعالیٰ کا فیصلہ حق ہے اور اس کی ربوبیت ثابت ہے، اسی طرح آپ کے رب کا وہ فیصلہ بھی ان لوگوں پر ثابت اور لازم ہو چکا ہے جنہوں نے اللہ کی اطاعت سے منہ موڑ کر کفر اور گناہوں کا راستہ اختیار کیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو جانتے بوجھتے ہوئے ٹھکرا دیا اور اپنی ضد اور سرکشی کی وجہ سے ایمان لانے سے انکار کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ان کے بارے میں پہلے ہی لکھ دیا گیا تھا کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے، کیونکہ انہوں نے خود اپنے دلوں پر مہر لگا لی اور اپنے اختیار سے کفر کو پسند کیا۔
یہ آیت مبارکہ ہمیں ایک اہم حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اس کے علم کامل اور عدل کے مطابق ہوتا ہے۔ جو لوگ فسق یعنی اللہ کی نافرمانی اور سرکشی کو اپنا شیوہ بنا لیتے ہیں، ان کے دلوں میں ایمان کی روشنی داخل نہیں ہو پاتی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان پہلے سے مجبور ہے، بلکہ یہ اللہ کا علم ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کفر کو چنیں گے، اس لیے اللہ نے ان کے بارے میں یہ فیصلہ صادر فرما دیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے دلوں کو کفر، نفاق اور گناہوں سے پاک رکھنا چاہیے، کیونکہ جو شخص ضد اور تکبر کے ساتھ حق کو رد کرتا ہے، اس کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور اختیار دیا ہے تاکہ ہم اس کی عبادت کریں اور اس کے احکام پر عمل کریں۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اللہ کے فضل و رحمت کے طالب بنیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو بہت پسند کرتا ہے اور انہیں بخش دیتا ہے۔ یاد رکھیں، اللہ کا دروازہ ہر اس شخص کے لیے کھلا ہے جو خلوص نیت سے اس کی طرف رجوع کرے۔
(ان سے) پوچھو کہ تم کو آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے اور بےجان سے جاندار کون پیدا کرتا ہے اور دنیا کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے۔ جھٹ کہہ دیں گے کہ خدا۔ تو کہو کہ پھر تم (خدا سے) ڈرتے کیوں نہیں؟
(ان سے) پوچھو کہ بھلا تمھارے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے کہ مخلوق کو ابتداً پیدا کرے (اور) پھر اس کو دوبارہ بنائے؟ کہہ دو کہ خدا ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تو تم کہاں اُکسے جارہے ہو
پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کون ایسا ہے کہ حق کا رستہ دکھائے۔ کہہ دو کہ خدا ہی حق کا رستہ دکھاتا ہے۔ بھلا جو حق کا رستہ دکھائے وہ اس قابل ہے کہ اُس کی پیروی کی جائے یا وہ کہ جب تک کوئی اسے رستہ نہ بتائے رستہ نہ پائے۔ تو تم کو کیا ہوا ہے کیسا انصاف کرتے ہو؟
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔