ترجمہ — Tafsir
ثُمَّ قِیلَ لِلَّذِینَ ظَلَمُوا ذُوقُوا عَذَابَ الْخُلْدِ ہَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا بِمَا کُنتُمْ تَکْسِبُونَ
معانی الفاظ:
- ظلموا: جن لوگوں نے اپنے اوپر ظلم کیا، یعنی کفر و شرک اور معاصی کا ارتکاب کیا۔
- عذاب الخلد: دائمی اور ہمیشہ رہنے والا عذاب، جو کبھی ختم نہ ہوگا۔
- تجزون: بدلہ دیے جاتے ہو، جزا دیے جاتے ہو۔
تفسیر:
جب ظالم لوگ جہنم میں داخل ہو کر عذاب سے نکلنے کی التجا کریں گے، تو انہیں توبیخ اور سرزنش کے انداز میں کہا جائے گا: "اب اس دائمی عذاب کا مزہ چکھو جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔" یہ وہ عذاب ہے جو ہمیشہ رہے گا، نہ اس میں کمی آئے گی اور نہ ہی انہیں اس سے نجات ملے گی۔ پھر ان سے کہا جائے گا: "کیا تمہیں اس کے سوا کوئی اور بدلہ دیا جا رہا ہے؟" یعنی تمہیں تو وہی بدلہ مل رہا ہے جو تم نے خود اپنے اعمال سے کمایا تھا۔ تم نے دنیا میں کفر، شرک اور گناہوں کا ارتکاب کیا، آج تمہیں اس کا پورا پورا بدلہ دیا جا رہا ہے۔
یہ اللہ کا عدل ہے کہ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا، بلکہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیتا ہے۔ جو شخص دنیا میں نیکی کرتا ہے، اسے آخرت میں اس کا اجر ملے گا، اور جو برائی کرتا ہے، اسے اس کا انجام بھگتنا پڑے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہم اپنے اعمال پر غور کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا میں زندگی دی ہے تاکہ ہم آزمائے جائیں، اور ہر عمل کا حساب کتاب ہوگا۔ جو شخص آج اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور اس کے احکام پر عمل پیرا ہوتا ہے، وہ اس عذاب سے محفوظ رہے گا۔ لیکن جو شخص اللہ کی نافرمانی کرتا ہے اور اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے، اسے اس کا انجام بھگتنا پڑے گا۔
اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے، اس نے ہمیں توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ جب تک ہم زندہ ہیں، ہم اپنے گناہوں سے توبہ کر سکتے ہیں اور اپنے اعمال کو سنوار سکتے ہیں۔ آئیے ہم اس آیت سے سبق لیں اور اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالیں، تاکہ ہم اس دائمی عذاب سے بچ سکیں اور اللہ کی رحمت کے حقدار بن سکیں۔
📜 آیت 50-54 — یونس
ترجمہ — یونس 52
سورہ یونس آیت 52 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر ظالم لوگوں سے کہا جائے گا کہ عذاب دائمی…سورہ آیت 52/109 — یونس يونس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یونس سنیں, یونس ترجمہ, یونس mp3, یونس pdf. آیت 50–54. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








