أَثُمَّ: کیا پھر (یہ استفہامِ توبیخ ہے، یعنی ملامت اور سرزنش کے لیے)۔
إِذَا مَا وَقَعَ: جب وہ (عذاب) آ پڑے۔
آمَنتُم بِهِ: تم اس پر ایمان لاؤ گے۔
آلْآنَ: کیا اب (اس وقت)؟
تَسْتَعْجِلُونَ: تم جلدی مانگ رہے تھے (عذاب کو)۔
تفسیر:
اے مشرکو! تمہاری یہ حالت انتہائی افسوسناک ہے۔ جب تم پر وہ عذاب آ پڑے گا جس کی تمہیں دھمکی دی گئی تھی، تو اس وقت تم کہو گے کہ ہم ایمان لائے! لیکن یہ ایمان تمہارے کسی کام نہ آئے گا، کیونکہ یہ وقتِ عذاب کا ایمان ہے، اور ایسا ایمان اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔ تم سے کہا جائے گا: "کیا اب ایمان لاتے ہو؟ حالانکہ تم پہلے اس عذاب کو مذاق میں جلدی مانگا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ عذاب کب آئے گا؟" یہ تمہارے لیے سخت سرزنش اور ملامت کا لمحہ ہوگا۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو! یہ آیت ہمیں غفلت سے بیدار کرتی ہے۔ انسان اکثر اللہ کی رحمت کو بھول جاتا ہے اور اپنی ضد اور تکبر میں عذاب کی جلدی مانگتا ہے، لیکن جب عذاب آتا ہے تو پھر پچھتانا بیکار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مہلت دی ہے، توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے، لیکن یہ مہلت ہمیشہ نہیں رہے گی۔ آج ہم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے رب کی طرف رجوع کرے، اپنے گناہوں سے توبہ کرے، اور اس سے پہلے کہ وہ وقت آئے جب ایمان قبول نہ ہو، اپنے خالق و مالک کے سامنے سر جھکا دے۔ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے۔ آج کا دن ہے عمل کا، کل کا دن حساب کا۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی زندگی کو اس کی رضا کے مطابق گزاریں۔ آمین۔
کہہ دو کہ میں اپنے نقصان اور فائدے کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ مگر جو خدا چاہے۔ ہر ایک امت کے لیے (موت کا) ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی بھی دیر نہیں کرسکتے اور نہ جلدی کرسکتے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔