بمعجزین: اللہ کو عاجز کرنے والے، اللہ کی گرفت سے بھاگ نکلنے والے۔
تفسیر:
اے محبوب رسول! یہ مشرکین آپ کے پاس آ کر طنزاً اور مذاق کے طور پر پوچھتے ہیں کہ کیا یہ عذاب جس کی آپ ہمیں خبر دیتے ہیں، اور قیامت کا یہ وعدہ، واقعی سچ ہے؟ یہ سوال دراصل ان کے استہزاء اور انکار کا اظہار ہے، کیونکہ وہ دل سے اسے جھٹلاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ انہیں جواب دیں: ہاں! قسم ہے میرے رب کی! یہ یقیناً بالکل سچ ہے، اس میں ذرہ برابر بھی شک نہیں۔ یہ واقعہ پیش آ کر رہے گا، اور تم اسے ٹال نہیں سکتے۔ پھر فرمایا: اور تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو، یعنی تم اس کی گرفت سے بھاگ نکلنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ وہ جسے چاہتا ہے پکڑ لیتا ہے، اور تم سب اس کی قدرت اور سلطنت میں ہو۔ تمہارا بھاگنا، چھپنا، یا انکار کرنا اس کے فیصلے کو ٹالنے والا نہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے وعدے بالکل سچے ہیں۔ جس طرح نبی کریم ﷺ نے بلا کسی تردد کے اللہ کی قسم کھا کر قیامت کے آنے کی تصدیق فرمائی، ہمیں بھی چاہیے کہ ہم آخرت پر کامل یقین رکھیں اور اس کے لیے تیاری کریں۔ یہ یقین ہی انسان کو گناہوں سے روکتا ہے اور نیکیوں کی طرف راغب کرتا ہے۔ یاد رکھیں! اللہ کی گرفت سے کوئی نہیں بچ سکتا، لیکن اس کی رحمت بھی بےحد وسیع ہے۔ آئیے ہم اپنے رب کی طرف رجوع کریں، اس کے وعدوں پر بھروسہ کریں، اور اپنی زندگی کو اس کی رضا کے مطابق ڈھالیں تاکہ اس دن ہم کامیاب ہوں جب کوئی مال اور اولاد کام نہ آئے گی، صرف ایمان اور عمل صالح کام آئیں گے۔ اللہ ہمیں سچائی پر چلنے اور آخرت کی تیاری کی توفیق دے۔ آمین۔
اور اگر ہر ایک نافرمان شخص کے پاس روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں تو (عذاب سے بچنے کے) بدلے میں (سب) دے ڈالے اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو (پچھتائیں گے اور) ندامت کو چھپائیں گے۔ اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور (کسی طرح کا) ان پر ظلم نہیں ہوگا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔