یونس · 98/109
ترجمہ تلفظ — یونس
فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ ۝٩٨
Falaw laa kaanat qaryatun aamanat fanafa`ahaaa eemaanuhaaa illaa qawma Yoonusa lammaaa aamanoo kashafnaa `anhum `azaabal khizyi fil hayaatid dunyaa wa matta`naahum ilaa heen
📖 اردو ترجمہ
تو کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان اسے نفع دیتا ہاں یونس کی قوم۔ جب ایمان لائی تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے ذلت کا عذاب دور کردیا اور ایک مدت تک (فوائد دنیاوی سے) ان کو بہرہ مند رکھا

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَلَوْلَا: کیوں نہ ہوا، یعنی ایسا کیوں نہ ہوا۔
  • قَرْيَةٌ: بستی، شہر۔
  • عَذَابَ الْخِزْيِ: ذلت و رسوائی کا عذاب۔
  • إِلَىٰ حِينٍ: ایک مقررہ وقت تک، یعنی ان کی موت کے وقت تک۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک اہم حقیقت بیان فرمائی ہے کہ جب پہلے لوگوں پر عذاب آیا، تو انہوں نے عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ایمان لانے کی کوشش کی، لیکن اس وقت ایمان لانا کسی کے کام نہ آیا، کیونکہ ایمان وہی قبول ہوتا ہے جو غیب پر ہو، عذاب دیکھ کر لایا گیا ایمان نہ تو سچا ہوتا ہے اور نہ ہی مقبول۔ مگر اس عام اصول سے ایک بستی مستثنیٰ ہے، اور وہ ہے حضرت یونس علیہ السلام کی قوم۔

حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کو توحید کی دعوت دیتے رہے، لیکن انہوں نے نہ مانا۔ جب آپ نے قوم سے ناراض ہو کر بستی چھوڑ دی اور عذاب کے آثار ظاہر ہونے لگے، تو اس قوم نے جب عذاب کے بادل اپنے سروں پر منڈلاتے دیکھے، تو انہوں نے اللہ کی طرف رجوع کیا، سچی توبہ کی، اور دل سے ایمان لے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان اور توبہ کو قبول فرمایا، اور ان سے عذاب کو ٹال دیا۔ یہ اللہ کا خاص فضل تھا جو اس قوم کے ساتھ ہوا، کیونکہ ان کا ایمان عذاب دیکھنے کے بعد بھی سچا اور خالص تھا، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا میں ذلت و رسوائی کے عذاب سے بچا کر ایک مقررہ وقت تک زندگی کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے دیا۔

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے، وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے، چاہے وہ کتنی ہی دیر سے کیوں نہ ہو۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ایمان کی اصل قیمت اس وقت ہے جب انسان غیب پر ایمان لائے، بغیر عذاب دیکھے، بغیر کسی مجبوری کے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے رب کو پہچانیں، اس کی اطاعت کریں، اور اپنے ایمان کو سچا اور خالص بنائیں۔ جو شخص اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ اسے کبھی مایوس نہیں کرتا، اور اس کی زندگی کو برکتوں سے بھر دیتا ہے۔ آئیے ہم سب اس قوم کی طرح اپنے رب کی طرف رجوع کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اور اللہ کی رحمت کے طالب بنیں، کیونکہ اللہ کی رحمت اس کے عذاب سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔



📜 آیت 96-100 — یونس

96إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ
جن لوگوں کے بارے میں خدا کا حکم (عذاب) قرار پاچکا ہے وہ ایمان نہیں لانے کے
97وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ
جب تک کہ عذاب الیم نہ دیکھ لیں خواہ ان کے پاس ہر (طرح کی) نشانی آجائے
98فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ
تو کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان اسے نفع دیتا ہاں یونس کی قوم۔ جب ایمان لائی تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے ذلت کا عذاب دور کردیا اور ایک مدت تک (فوائد دنیاوی سے) ان کو بہرہ مند رکھا
99وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا ۚ أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ
اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو جتنے لوگ زمین پر ہیں سب کے سب ایمان لے آتے۔ تو کیا تم لوگوں پر زبردستی کرنا چاہتے ہو کہ وہ مومن ہوجائیں
100وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تُؤْمِنَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ
حالانکہ کسی شخص کو قدرت نہیں ہے کہ خدا کے حکم کے بغیر ایمان لائے۔ اور جو لوگ بےعقل ہیں ان پر وہ (کفر وذلت کی) نجاست ڈالتا ہے
یونسقرآن فہرست
109آیت
مکیRevelation
98آیت

ترجمہ — یونس 98

سورہ یونس آیت 98 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ ایمان لاتی…

سورہ آیت 98/109 — یونس يونس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یونس سنیں, یونس ترجمہ, یونس mp3, یونس pdf. آیت 96–100. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں