تو کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان اسے نفع دیتا ہاں یونس کی قوم۔ جب ایمان لائی تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے ذلت کا عذاب دور کردیا اور ایک مدت تک (فوائد دنیاوی سے) ان کو بہرہ مند رکھا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چرا مردم هيچ قريهاى به هنگامى كه ايمانشان سودشان مىداد ايمان نياوردند مگر قوم يونس كه چون ايمان آوردند عذاب ذلت در دنيا را از آنان برداشتيم و تا هنگامى كه اجلشان فرا رسيد از زندگى برخوردارشان كرديم.
إِلَىٰ حِينٍ: ایک مقررہ وقت تک، یعنی ان کی موت کے وقت تک۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک اہم حقیقت بیان فرمائی ہے کہ جب پہلے لوگوں پر عذاب آیا، تو انہوں نے عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ایمان لانے کی کوشش کی، لیکن اس وقت ایمان لانا کسی کے کام نہ آیا، کیونکہ ایمان وہی قبول ہوتا ہے جو غیب پر ہو، عذاب دیکھ کر لایا گیا ایمان نہ تو سچا ہوتا ہے اور نہ ہی مقبول۔ مگر اس عام اصول سے ایک بستی مستثنیٰ ہے، اور وہ ہے حضرت یونس علیہ السلام کی قوم۔
حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کو توحید کی دعوت دیتے رہے، لیکن انہوں نے نہ مانا۔ جب آپ نے قوم سے ناراض ہو کر بستی چھوڑ دی اور عذاب کے آثار ظاہر ہونے لگے، تو اس قوم نے جب عذاب کے بادل اپنے سروں پر منڈلاتے دیکھے، تو انہوں نے اللہ کی طرف رجوع کیا، سچی توبہ کی، اور دل سے ایمان لے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان اور توبہ کو قبول فرمایا، اور ان سے عذاب کو ٹال دیا۔ یہ اللہ کا خاص فضل تھا جو اس قوم کے ساتھ ہوا، کیونکہ ان کا ایمان عذاب دیکھنے کے بعد بھی سچا اور خالص تھا، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا میں ذلت و رسوائی کے عذاب سے بچا کر ایک مقررہ وقت تک زندگی کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے دیا۔
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے، وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے، چاہے وہ کتنی ہی دیر سے کیوں نہ ہو۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ایمان کی اصل قیمت اس وقت ہے جب انسان غیب پر ایمان لائے، بغیر عذاب دیکھے، بغیر کسی مجبوری کے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے رب کو پہچانیں، اس کی اطاعت کریں، اور اپنے ایمان کو سچا اور خالص بنائیں۔ جو شخص اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ اسے کبھی مایوس نہیں کرتا، اور اس کی زندگی کو برکتوں سے بھر دیتا ہے۔ آئیے ہم سب اس قوم کی طرح اپنے رب کی طرف رجوع کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اور اللہ کی رحمت کے طالب بنیں، کیونکہ اللہ کی رحمت اس کے عذاب سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
تو کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان اسے نفع دیتا ہاں یونس کی قوم۔ جب ایمان لائی تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے ذلت کا عذاب دور کردیا اور ایک مدت تک (فوائد دنیاوی سے) ان کو بہرہ مند رکھا
تو کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان اسے نفع دیتا ہاں یونس کی قوم۔ جب ایمان لائی تو ہم نے دنیا کی زندگی میں ان سے ذلت کا عذاب دور کردیا اور ایک مدت تک (فوائد دنیاوی سے) ان کو بہرہ مند رکھا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔