ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- شہید: گواہ، حاضر، مشاہدہ کرنے والا۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا بہت بڑا ناشکرا ہے، اور یہ بات کوئی پوشیدہ نہیں بلکہ انسان خود اپنے اس رویے کا گواہ ہے۔ یعنی انسان اپنے دل کی گہرائیوں میں جانتا ہے کہ وہ اپنے رب کی نعمتوں کا انکار کرتا ہے اور انہیں نظر انداز کرتا ہے، اس کے باوجود وہ اپنے اس جحود اور ناشکری پر قائم رہتا ہے۔ یہ گواہی اس کے اپنے اعمال، اس کے رویے اور اس کے دل کی حالت سے ملتی ہے، چنانچہ وہ اس حقیقت سے منہ نہیں موڑ سکتا۔ انسان کی فطرت اس پر گواہ ہے کہ وہ مال کی محبت میں گرفتار ہے اور اس کی وجہ سے وہ خیر کے راستوں سے رکتا ہے، اور یہ سب کچھ اس کے سامنے واضح ہے۔
فوائد:
- انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے رب کی نعمتوں کا شکر ادا کرے اور انہیں پہچانے، کیونکہ ناشکری انسان کی اپنی فطرت کے خلاف ہے اور وہ خود اس کا گواہ ہے۔
- یہ آیت انسان کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور اپنے اعمال کو پرکھے، کیونکہ وہ خود اپنے رویے کا گواہ ہے۔
- انسان کو مال کی محبت سے بچنا چاہیے اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے، کیونکہ مال کی محبت ہی انسان کو خیر سے روکتی ہے۔
- یہ آیت انسان کو اللہ کی طرف رجوع کرنے کی ترغیب دیتی ہے، کیونکہ اللہ ہی نعمتوں کا دینے والا ہے اور وہی انسان کے اعمال کا مشاہدہ کرنے والا ہے۔
📜 آیت 5-9 — عاديات
ترجمہ — عاديات 7
سورہ عاديات آیت 7 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور وہ اس سے آگاہ بھی ہےسورہ آیت 7/11 — عاديات العاديات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: عاديات سنیں, عاديات ترجمہ, عاديات mp3, عاديات pdf. آیت 5–9. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








