Am yaqooloonaf taraahu qul inif taraituhoo fa`alaiya ijraamee wa ana bareee`um mimmaa tujrimoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے یہ قرآن اپنے دل سے بنا لیا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میں نے دل سے بنالیا ہے تو میرے گناہ کا وبال مجھ پر اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذمہ ہوں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
يا مىگويند كه آن را به خدا دروغ بسته است. بگو: اگر آن را به خدا دروغ بسته باشم، گناهش بر من است و من از گناهى كه مىكنيد مُبرا هستم.
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے یہ قرآن اپنے دل سے بنا لیا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میں نے دل سے بنالیا ہے تو میرے گناہ کا وبال مجھ پر اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذمہ ہوں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
افْتَرَاهُ: اسے خود گھڑ لیا، جھوٹ باندھ لیا۔
إِجْرَامِي: میرا جرم، میرا گناہ۔
تُجْرِمُونَ: تم جرم کرتے ہو، گناہ کا ارتکاب کرتے ہو۔
تفسیر:
یہ آیت حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے اس الزام کا جواب ہے، جب انہوں نے کہا کہ نوح نے یہ سب کچھ خود گھڑ لیا ہے اور اللہ کی طرف منسوب کر کے ہمیں ڈرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ ان سے کہو: اگر میں نے واقعی یہ بات خود گھڑی ہوتی تو اس کا وبال صرف مجھ پر ہوتا، میرا جرم میرے ذمے ہوتا، اور تم اس سے بری ہوتے۔ لیکن اگر میں سچا ہوں اور یہ پیغام اللہ کی طرف سے ہے، تو پھر جرم تمہارا ہے، تمہارا کفر اور تکذیب تمہارے اوپر بوجھ بنے گی، اور میں تمہارے اس جرم سے بالکل بری اور پاک ہوں۔
یہاں نوح علیہ السلام کی قوم کے ساتھ ساتھ ایک عام اصول بھی بیان ہوا ہے کہ ہر انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ کوئی کسی کا گناہ نہیں اٹھائے گا۔ نبیوں کا کام صرف پیغام پہنچانا ہے، ہدایت دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں، وہ اپنے لیے تباہی مول لیتے ہیں، اور جو سچے داعی ہیں، وہ اپنی دعوت میں مخلص ہوتے ہیں، ان پر الزام لگانا خود ظلم ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حق کے داعی کو چاہیے کہ وہ مخالفین کے الزامات سے گھبرائے نہیں، بلکہ اپنی سچائی اور خلوص پر بھروسہ رکھے۔ جب دل صاف ہو اور نیت خالص ہو تو اللہ خود اپنے بندے کی مدد کرتا ہے۔ نیز یہ بھی یاد رکھیں کہ آخرت میں ہر شخص کو اس کے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے، نہ کوئی کسی کا بوجھ اٹھائے گا اور نہ کوئی کسی کی سفارش بغیر اللہ کے حکم کے کام آئے گی۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنے اعمال کی اصلاح کریں اور حق کو قبول کرنے میں تاخیر نہ کریں، کیونکہ جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں، وہ آخرت میں پشیمان ہوں گے، لیکن پشیمانی کا وقت گزر چکا ہوگا۔ اللہ ہمیں سچائی پر قائم رہنے اور حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اور اگر میں یہ چاہوں کہ تمہاری خیرخواہی کروں اور خدا یہ چاہے وہ تمہیں گمراہ کرے تو میری خیرخواہی تم کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔ وہی تمہارا پروردگار ہے اور تمہیں اس کی طرف لوٹ کر جانا ہے
کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے یہ قرآن اپنے دل سے بنا لیا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میں نے دل سے بنالیا ہے تو میرے گناہ کا وبال مجھ پر اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذمہ ہوں
اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں جو لوگ ایمان (لاچکے)، ان کے سوا کوئی اور ایمان نہیں لائے گا تو جو کام یہ کر رہے ہیں ان کی وجہ سے غم نہ کھاؤ
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔