ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- يُهْرَعُونَ: دوڑتے ہوئے، جلدی جلدی آنا۔
- السَّيِّئَاتِ: برے کام، یہاں مراد قومِ لوط کا شہوانی فعل (ہم جنسی) ہے۔
- أَطْهَرُ لَكُمْ: تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ اور حلال۔
- تُخْزُونِ: مجھے رسوا نہ کرو، میری بے عزتی نہ کرو۔
- رَجُلٌ رَّشِيدٌ: سمجھ دار، نیک اور عقل مند آدمی۔
تفسیر:
جب حضرت لوط علیہ السلام کے پاس فرشتے (مہمانوں کی صورت میں) آئے تو ان کی قوم کو خبر ہوئی۔ وہ لوگ جو برائیوں میں ڈوبے ہوئے تھے اور جن کی عادت تھی کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے تھے، وہ تیزی سے دوڑتے ہوئے حضرت لوط کے گھر کی طرف آئے۔ وہ اتنے بے باک اور ڈھٹائی میں مبتلا تھے کہ اپنے نبی کے گھر پر اس برائی کا ارادہ لے کر حملہ آور ہوئے۔
حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کی اس ناپاک حرکت کو دیکھا تو انہوں نے اپنے مہمانوں کی حفاظت کے لیے اور انہیں اس گناہِ عظیم سے روکنے کے لیے فرمایا: "اے میری قوم! یہ میری بیٹیاں ہیں، ان سے نکاح کر لو، یہ تمہارے لیے اس برائی سے کہیں زیادہ پاکیزہ اور حلال طریقہ ہے۔" یہاں "بیٹیاں" سے مراد ان کی قوم کی عورتیں تھیں، کیونکہ نبی اپنی امت کا باپ ہوتا ہے، اس لیے انہوں نے اپنی قوم کی عورتوں کو اپنی بیٹیاں کہہ کر انہیں حلال راستہ دکھایا۔
پھر انہوں نے انہیں ڈراتے ہوئے فرمایا: "اللہ سے ڈرو اور اس کے عذاب سے بچو، اور میرے مہمانوں کے معاملے میں مجھے رسوا نہ کرو۔" یعنی تمہارا یہ فعل نہ صرف اللہ کی نافرمانی ہے بلکہ میری بے عزتی کا باعث بھی ہے، کیونکہ مہمان کی حفاظت کرنا میری ذمہ داری ہے۔ آخر میں انہوں نے قوم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "کیا تم میں کوئی ایک بھی سمجھ دار اور نیک آدمی نہیں جو تمہیں اس برائی سے روکے اور تمہیں سمجھائے؟" یہ فرما کر انہوں نے قوم کی عقل کو پکارا اور انہیں سوچنے کی دعوت دی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو برائی سے روکنے کے لیے ہر ممکن حلال راستہ دکھایا، یہاں تک کہ انہوں نے اپنی قوم کی عورتوں سے نکاح کی پیشکش کی تاکہ وہ حرام سے بچ جائیں۔ یہ ہمارے لیے سبق ہے کہ ہمیں بھی برائی سے بچنے کے لیے حلال راستے اختیار کرنے چاہئیں۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ مہمان کی عزت و حفاظت کرنا اسلامی اخلاق کا حصہ ہے، اور تیسرا سبق یہ ہے کہ برائی کو روکنے کے لیے ہمیں اپنی قوم کے سمجھ دار لوگوں سے مدد لینی چاہیے اور انہیں نصیحت کرنی چاہیے۔ آج کے دور میں بھی ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاشرے میں برائیوں کو روکنے کے لیے حکمت اور نرمی سے کام لیں، حلال طریقے اپنائیں اور اللہ سے ڈرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں برائیوں سے بچنے اور نیکی کی راہ پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 76-80 — ہود
ترجمہ — ہود 78
سورہ ہود آیت 78 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور لوط کی قوم کے لوگ ان کے پاس بےتحاشا…سورہ آیت 78/123 — ہود هود (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ہود سنیں, ہود ترجمہ, ہود mp3, ہود pdf. آیت 76–80. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








