یوسف · 54/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِي ۖ فَلَمَّا كَلَّمَهُ قَالَ إِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌ ۝٥٤
Wa qaalal maliku` toonee biheee astakhlishu linafsee falammaa kallamahoo qaala innakal yawma ladainaa makeenun ameen
📖 اردو ترجمہ
بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحبِ اعتبار ہو

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَسْتَخْلِصْهُ: اسے اپنے لیے خالص اور مخصوص کر لوں، یعنی اپنے خاص مشیروں اور قریبی لوگوں میں شامل کر لوں۔
  • مَكِينٌ: صاحبِ مرتبہ، عزت والا، جسے مکمل اختیار اور اقتدار حاصل ہو۔
  • أَمِينٌ: امانت دار، جس پر بھروسہ کیا جائے اور جو ہر معاملے میں قابلِ اعتماد ہو۔

تفسیر:

جب بادشاہِ مصر پر حضرت یوسف علیہ السلام کی براءت واضح ہو گئی اور ان کا علم و حکمت اور پاک دامنی ظاہر ہو گئی، تو بادشاہ نے اپنے درباریوں سے کہا: "یوسف کو میرے پاس لے آؤ، میں اسے اپنے لیے خاص بنا لوں گا اور اسے اپنی مجلسِ مشورہ کا رکن بنا لوں گا۔" جب حضرت یوسف علیہ السلام بادشاہ کے پاس آئے اور اس نے ان سے گفتگو کی، تو ان کی دانائی، فہم و فراست، حسنِ اخلاق اور امانت داری سے بادشاہ بہت متاثر ہوا۔ بادشاہ نے ان سے کہا: "آج سے تم ہمارے ہاں بلند مرتبہ اور صاحبِ اختیار ہو، اور تم ہر معاملے میں امانت دار ہو، میں تمہیں اپنے خزانوں اور اپنے ملک کے انتظام کا ذمہ دار بناتا ہوں۔"

یہ وہ عظیم لمحہ تھا جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو قیدِ مصیبت سے نکال کر عزت و اقتدار کی بلندیوں پر پہنچایا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے صبر، تقویٰ اور پاک دامنی کا جو راستہ اختیار کیا تھا، اللہ نے انہیں وہ مقام عطا فرمایا جو دنیا کی نگاہ میں بہت بلند تھا۔ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے تھا، کیونکہ اللہ اپنے مخلص بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔

دعوتی پہلو:

اس واقعے سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ صبر اور تقویٰ کا انجام ہمیشہ اچھا ہوتا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے جیل میں کئی سال گزارے، لیکن انہوں نے اللہ پر بھروسہ نہیں چھوڑا۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ امانت داری اور دیانت داری انسان کو عزت دلاتی ہے۔ بادشاہ نے انہیں اس لیے بلند مقام دیا کیونکہ انہوں نے اپنی امانت داری اور علم کا ثبوت دیا تھا۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں صبر، امانت داری اور تقویٰ کو اپنائیں، کیونکہ یہی وہ صفات ہیں جو انسان کو دنیا اور آخرت میں کامیابی دلاتی ہیں۔ اللہ ہمیں حضرت یوسف علیہ السلام کی طرح صبر اور امانت داری عطا فرمائے۔ آمین۔



📜 آیت 52-56 — یوسف

52ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ
(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لیے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں خیانت نہیں کی) اور خدا خیانت کرنے والوں کے مکروں کو روبراہ نہیں کرتا
53۞ وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي ۚ إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي ۚ إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ
اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے گا۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
54وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِي ۖ فَلَمَّا كَلَّمَهُ قَالَ إِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌ
بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحبِ اعتبار ہو
55قَالَ اجْعَلْنِي عَلَىٰ خَزَائِنِ الْأَرْضِ ۖ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ
(یوسف نے) کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجیئے کیونکہ میں حفاظت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف ہوں
56وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِي الْأَرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاءُ ۚ نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَن نَّشَاءُ ۖ وَلَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ
اس طرح ہم نے یوسف کو ملک (مصر) میں جگہ دی اور وہ اس ملک میں جہاں چاہتے تھے رہتے تھے۔ ہم اپنی رحمت جس پر چاہتے ہیں کرتے ہیں اور نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
54آیت

ترجمہ — یوسف 54

سورہ یوسف آیت 54 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں…

سورہ آیت 54/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 52–56. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں