یوسف · 53/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
۞ وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي ۚ إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي ۚ إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۝٥٣
Wa maa ubarri`u nafsee; innan nafsa la ammaaratum bissooo`i illaa maa rahima Rabbee; inna Rabbee Ghafoorur Raheem
📖 اردو ترجمہ
اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے گا۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أُبَرِّئُ: پاک قرار دینا، بری الذمہ ٹھہرانا۔
  • أَمَّارَةٌ: بہت زیادہ حکم دینے والی، بار بار ابھارنے والی۔
  • بِالسُّوءِ: برائی، گناہ، نافرمانی۔
  • إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّی: سوائے اس کے جس پر میرا رب رحم فرمائے۔

تفسیر:

عزیزِ مصر کی بیوی نے یہ اعتراف کیا کہ میں اپنے نفس کو بری الذمہ قرار نہیں دیتی، کیونکہ نفسِ انسانی کی فطرت ہی یہ ہے کہ وہ برائی کا حکم دیتا ہے اور اپنی خواہشات کی پیروی پر ابھارتا ہے۔ ہر انسان کا نفس اسے گناہ کی طرف مائل کرتا ہے، خواہ وہ کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، سوائے اس شخص کے جس پر اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت فرمائے اور اسے گناہ سے محفوظ رکھے۔ یہ وہی عصمت ہے جو اللہ اپنے برگزیدہ بندوں کو عطا فرماتا ہے۔

پھر اس نے اپنے رب کی صفات کا ذکر کیا کہ وہ غفور ہے، یعنی اپنے توبہ کرنے والے بندوں کے گناہ معاف فرمانے والا ہے، اور رحیم ہے، یعنی اپنے بندوں پر مہربانی فرمانے والا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کو مایوسی میں نہیں پڑنا چاہیے، بلکہ اللہ کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے توبہ کرنے والے بندوں کو معاف فرما دیتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ انسان کو اپنے نفس پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ نفس ہمیشہ برائی کی طرف مائل رہتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے نفس کے بہکاوے سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ مانگیں اور اس کی رحمت کے طالب رہیں۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، وہ اپنے گنہگار بندوں کو بھی معاف فرما دیتا ہے جب وہ سچے دل سے توبہ کرتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں کبھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہمیشہ اس کی طرف رجوع کرتے رہنا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی تک پہنچاتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 51-55 — یوسف

51قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِ ۚ قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوءٍ ۚ قَالَتِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ أَنَا رَاوَدتُّهُ عَن نَّفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ
بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ سب بول اٹھیں کہ حاش َللهِ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے کہ) میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور بےشک وہ سچا ہے
52ذَٰلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ
(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لیے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں خیانت نہیں کی) اور خدا خیانت کرنے والوں کے مکروں کو روبراہ نہیں کرتا
53۞ وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي ۚ إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي ۚ إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ
اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے گا۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
54وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِي ۖ فَلَمَّا كَلَّمَهُ قَالَ إِنَّكَ الْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌ
بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحبِ اعتبار ہو
55قَالَ اجْعَلْنِي عَلَىٰ خَزَائِنِ الْأَرْضِ ۖ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ
(یوسف نے) کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجیئے کیونکہ میں حفاظت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف ہوں
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
53آیت

ترجمہ — یوسف 53

سورہ یوسف آیت 53 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس…

سورہ آیت 53/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 51–55. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں