Wa maa ubarri`u nafsee; innan nafsa la ammaaratum bissooo`i illaa maa rahima Rabbee; inna Rabbee Ghafoorur Raheem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے گا۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
من خويشتن را بىگناه نمىدانم، زيرا نفس، آدمى را به بدى فرمان مىدهد. مگر پروردگار من ببخشايد، زيرا پروردگار من آمرزنده و مهربان است.
اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے گا۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أُبَرِّئُ: پاک قرار دینا، بری الذمہ ٹھہرانا۔
أَمَّارَةٌ: بہت زیادہ حکم دینے والی، بار بار ابھارنے والی۔
بِالسُّوءِ: برائی، گناہ، نافرمانی۔
إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّی: سوائے اس کے جس پر میرا رب رحم فرمائے۔
تفسیر:
عزیزِ مصر کی بیوی نے یہ اعتراف کیا کہ میں اپنے نفس کو بری الذمہ قرار نہیں دیتی، کیونکہ نفسِ انسانی کی فطرت ہی یہ ہے کہ وہ برائی کا حکم دیتا ہے اور اپنی خواہشات کی پیروی پر ابھارتا ہے۔ ہر انسان کا نفس اسے گناہ کی طرف مائل کرتا ہے، خواہ وہ کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، سوائے اس شخص کے جس پر اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت فرمائے اور اسے گناہ سے محفوظ رکھے۔ یہ وہی عصمت ہے جو اللہ اپنے برگزیدہ بندوں کو عطا فرماتا ہے۔
پھر اس نے اپنے رب کی صفات کا ذکر کیا کہ وہ غفور ہے، یعنی اپنے توبہ کرنے والے بندوں کے گناہ معاف فرمانے والا ہے، اور رحیم ہے، یعنی اپنے بندوں پر مہربانی فرمانے والا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کو مایوسی میں نہیں پڑنا چاہیے، بلکہ اللہ کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے توبہ کرنے والے بندوں کو معاف فرما دیتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ انسان کو اپنے نفس پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ نفس ہمیشہ برائی کی طرف مائل رہتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے نفس کے بہکاوے سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ مانگیں اور اس کی رحمت کے طالب رہیں۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، وہ اپنے گنہگار بندوں کو بھی معاف فرما دیتا ہے جب وہ سچے دل سے توبہ کرتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں کبھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہمیشہ اس کی طرف رجوع کرتے رہنا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی تک پہنچاتا ہے۔
بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ سب بول اٹھیں کہ حاش َللهِ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے کہ) میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور بےشک وہ سچا ہے
(یوسف نے کہا کہ میں نے) یہ بات اس لیے (پوچھی ہے) کہ عزیز کو یقین ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (امانت میں خیانت نہیں کی) اور خدا خیانت کرنے والوں کے مکروں کو روبراہ نہیں کرتا
اور میں اپنے تئیں پاک صاف نہیں کہتا کیونکہ نفس امارہ (انسان کو) برائی سکھاتا رہتا ہے۔ مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے گا۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحبِ اعتبار ہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔