ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- خزائن الارض: زمین کے خزانے، یعنی ملک کے مالیاتی ذخائر اور اناج کے گودام۔
- حفیظ: حفاظت کرنے والا، امانت دار، نگران۔
- علیم: علم والا، باخبر، جو تدبیر اور انتظام کے اصول جانتا ہو۔
تفسیر:
حضرت یوسف علیہ السلام نے جب خواب کی تعبیر بیان کی اور فرمایا کہ سات سال کی قحط سالی آنے والی ہے، تو اس موقع پر انہوں نے بادشاہ سے کہا: "مجھے اس زمین (مصر) کے خزانوں پر مقرر کر دیجیے، میں حفاظت کرنے والا اور علم والا ہوں۔" یعنی مجھے اناج کے گوداموں اور مالیاتی ذخائر کا نگران بنا دیں، کیونکہ میں امانت داری سے ان کی حفاظت کروں گا اور ان کے انتظام و تدبیر کا مکمل علم رکھتا ہوں۔
یہ درخواست حضرت یوسف علیہ السلام نے ذاتی فائدے یا دنیاوی منفعت کے لیے نہیں کی، بلکہ ان کا مقصد عوام الناس کی بھلائی اور انصاف کا قیام تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ قحط کے ان مشکل ایام میں غلہ اور وسائل کو اس طرح تقسیم کریں کہ کوئی بھوکا نہ رہے، اور ملک کی معیشت کو سنبھال کر لوگوں کو مصیبت سے بچائیں۔ یہ ایک عظیم داعیانہ اور خدمت گزارانہ جذبہ تھا، جو ہر مسلمان کے لیے نمونہ ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو امت کی خدمت میں لگائے، نہ کہ ذاتی مفاد کے لیے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک مومن کو چاہیے کہ وہ اپنی قابلیت اور علم کو معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کرے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ عہدہ اس لیے مانگا تاکہ لوگوں پر رحم کریں اور ان کی حاجتیں پوری کریں۔ یہ بھی درس ہے کہ اگر کوئی شخص واقعی اہل ہو اور اس کا مقصد خدمت ہو، تو ذمہ داری لینا برا نہیں، بلکہ یہ ایک نیک کام ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے خدمت گزاروں کو عزت دیتا ہے اور ان کے ذریعے امت کی بھلائی فرماتا ہے۔ آئیے ہم بھی اپنی زندگیوں میں یہ سیکھیں کہ جہاں بھی ہوں، اپنے علم اور صلاحیتوں کو اللہ کی مخلوق کی خدمت کے لیے پیش کریں، اور اپنے اعمال کو خالص اللہ کی رضا کے لیے بنائیں۔
📜 آیت 53-57 — یوسف
ترجمہ — یوسف 55
سورہ یوسف آیت 55 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یوسف نے) کہا مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر…سورہ آیت 55/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 53–57. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








