یوسف · 83/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ ۖ عَسَى اللَّهُ أَن يَأْتِيَنِي بِهِمْ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ ۝٨٣
Qaala bal sawwalat lakum anfusukum amran fasabrun jameelun `asal laahu any yaa tiyanee bihim jamee`aa; innahoo Huwal `Aleemul Hakeem
📖 اردو ترجمہ
(جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا کہ (حقیقت یوں نہیں ہے) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے۔ عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بےشک وہ دانا (اور) حکمت والا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • سَوَّلَتْ: زینت دیا، بھلا لگایا، نفس نے برے کام کو اچھا دکھایا۔
  • صَبْرٌ جَمِيلٌ: وہ صبر جس میں کوئی شکایت نہ ہو، نہ بے صبری ہو، نہ اللہ کی مشیت پر اعتراض ہو۔

تفسیر:

جب یعقوب علیہ السلام کے بیٹے مصر سے واپس آئے اور انہوں نے اپنے والد کو بتایا کہ بنیامین نے چوری کی اور اسے پکڑ لیا گیا، تو یعقوب علیہ السلام نے ان کی بات کو قبول نہیں کیا۔ انہوں نے فرمایا: "نہیں! حقیقت یہ ہے کہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لیے ایک (بری) بات کو زینت دے کر پیش کیا ہے۔" یعنی تم نے خود اپنے بھائی کے خلاف کوئی چال چلی ہے، جیسا کہ پہلے یوسف علیہ السلام کے ساتھ کیا تھا۔ یہ الفاظ اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یعقوب علیہ السلام کو اپنے بیٹوں پر بھروسہ نہیں تھا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے نفسوں نے انہیں دھوکہ دیا ہے۔

پھر آپ نے صبر کا ذکر کیا: "فَصَبْرٌ جَمِيلٌ" یعنی میرا صبر وہ صبر ہے جس میں کوئی شکایت نہ ہو، نہ لوگوں کے سامنے، نہ اللہ کے سامنے، بلکہ خاموشی سے اللہ ہی سے مدد مانگی جائے۔ یہ صبر کا اعلیٰ مقام ہے، جہاں بندہ اپنی پریشانی کو صرف اللہ کے سامنے بیان کرتا ہے اور اس کی رضا پر راضی رہتا ہے۔

اس کے بعد یعقوب علیہ السلام نے اللہ سے امید کا اظہار کیا: "عَسَى اللَّهُ أَن يَأْتِيَنِي بِهِمْ جَمِيعًا" یعنی امید ہے کہ اللہ میرے تینوں بیٹوں کو (یوسف، بنیامین، اور بڑے بیٹے جو مصر میں رک گیا تھا) میرے پاس واپس لے آئے گا۔ یہ امید ان کے ایمان کی مضبوطی کا ثبوت ہے، کیونکہ انہوں نے مایوسی کے بجائے اللہ کی رحمت سے امید رکھی۔

آخر میں فرمایا: "إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ" یعنی اللہ ہی سب کچھ جاننے والا ہے، وہ میرے حال سے واقف ہے، اور وہ حکیم ہے، یعنی ہر کام حکمت کے ساتھ کرتا ہے۔ یہ الفاظ یعقوب علیہ السلام کے اللہ پر کامل بھروسے کو ظاہر کرتے ہیں۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ مصیبتوں کے وقت صبر اور اللہ پر بھروسہ ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔ یعقوب علیہ السلام نے کئی سالوں تک اپنے بیٹے یوسف کی جدائی برداشت کی، پھر بنیامین کی جدائی، اور اب بڑے بیٹے کی جدائی، لیکن انہوں نے کبھی اللہ سے امید نہیں چھوڑی۔ یہ ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے کہ ہم بھی مشکلات میں گھبرائیں نہیں، بلکہ صبر کریں اور اللہ سے امید رکھیں، کیونکہ اللہ ہر چیز کو جانتا ہے اور ہر کام حکمت سے کرتا ہے۔ صبر جمیل وہ صبر ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے اور اس کے دل کو سکون دیتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 81-85 — یوسف

81ارْجِعُوا إِلَىٰ أَبِيكُمْ فَقُولُوا يَا أَبَانَا إِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدْنَا إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَافِظِينَ
تم سب والد صاحب کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ ابا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اس کے لے آنے کا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب کی باتوں کو جاننے اور یاد رکھنے والے تو نہیں تھے
82وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ الَّتِي كُنَّا فِيهَا وَالْعِيرَ الَّتِي أَقْبَلْنَا فِيهَا ۖ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ
اور جس بستی میں ہم (ٹھہرے) تھے وہاں سے (یعنی اہل مصر سے) اور جس قافلے میں آئے ہیں اس سے دریافت کر لیجیئے اور ہم اس بیان میں بالکل سچے ہیں
83قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ ۖ عَسَى اللَّهُ أَن يَأْتِيَنِي بِهِمْ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ
(جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا کہ (حقیقت یوں نہیں ہے) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے۔ عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بےشک وہ دانا (اور) حکمت والا ہے
84وَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا أَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ
پھر ان کے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف (ہائے افسوس) اور رنج والم میں (اس قدر روئے کہ) ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا
85قَالُوا تَاللَّهِ تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَالِكِينَ
بیٹے کہنے لگے کہ والله اگر آپ یوسف کو اسی طرح یاد ہی کرتے رہیں گے تو یا تو بیمار ہوجائیں گے یا جان ہی دے دیں گے
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
83آیت

ترجمہ — یوسف 83

سورہ یوسف آیت 83 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی…

سورہ آیت 83/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 81–85. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں