ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تَوَلَّىٰ عَنْهُمْ: ان سے منہ موڑ لیا، الٹ گئے
- یَا أَسَفَىٰ: اے حسرت و افسوس! (شدید غم اور رنج کا اظہار)
- ابْیَضَّتْ عَیْنَاهُ: ان کی آنکھیں سفید ہو گئیں (بینائی ختم ہو گئی)
- کَظِیمٌ: غم کو دبا کر رکھنے والا، اندر ہی اندر گھٹنے والا
تفسیر:
حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے جب اپنے بھائی بنیامین کے معاملے میں کھوٹے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے جھوٹی خبر لے کر آئے اور اپنے والد کو یہ باور کراتے رہے کہ چوری کی وجہ سے انہیں روک لیا گیا، تو اس وقت یہود کے اس عظیم نبی کا دل ٹوٹ گیا۔ وہ ان بیٹوں کے سامنے سے اس طرح الٹ گئے جیسے کوئی شخص کسی تکلیف دہ چیز سے منہ موڑ لیتا ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹوں کی باتوں پر کوئی جواب نہیں دیا، نہ انہیں ڈانٹا، نہ ان پر الزام لگایا، بلکہ خاموشی سے اپنے اس غم میں ڈوب گئے جو برسوں سے ان کے سینے میں پلتا رہا تھا۔
پھر ان کی زبان سے وہ صدیوں پرانی پکار نکلی: "یَا أَسَفَىٰ عَلَىٰ یُوسُفَ" یعنی "اے حسرت! اے افسوس! یوسف پر!" یہ وہ لمحہ تھا جب ایک باپ کا دل اپنے سب سے پیارے بیٹے کی یاد میں پھٹ پڑا۔ وہ بیٹا جو ان کی آنکھوں کا نور تھا، جو ان کے دل کا چین تھا، جو ان کی نبوت کا وارث تھا، اس کی جدائی کا داغ برسوں بعد بھی تازہ تھا۔
یہاں اللہ تعالیٰ ہمیں بتاتے ہیں کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھیں اس قدر روئیں کہ ان کی بینائی ختم ہو گئی اور آنکھوں کی سیاہی سفید ہو گئی۔ یہ اس باپ کے غم کی انتہا تھی جو اپنے بیٹے کی جدائی میں اتنا رویا کہ اس کی آنکھیں اندھی ہو گئیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ "کَظِیمٌ" تھے یعنی اپنے غم کو دبا کر رکھنے والے تھے۔ وہ لوگوں کے سامنے اپنے غم کا اظہار نہیں کرتے تھے، نہ کسی سے شکایت کرتے تھے، نہ کسی کو اپنی تکلیف کا اندازہ ہونے دیتے تھے۔ وہ راتوں کو تنہائی میں رویا کرتے تھے، لیکن دن کو صبر اور استقامت کے ساتھ لوگوں کے سامنے آتے تھے۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مصیبت اور غم میں صبر کرنا انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے کبھی اللہ سے شکایت نہیں کی، کبھی اپنے رب پر اعتراض نہیں کیا، بلکہ صبر جمیل اختیار کیا اور اللہ ہی سے مدد مانگی۔ یہی وہ صبر ہے جس کا اللہ نے قرآن میں ذکر کیا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ جب زندگی میں کوئی غم آئے، کوئی تکلیف پہنچے، تو ہم صبر کریں، اللہ سے مدد مانگیں اور یقین رکھیں کہ ہر مصیبت کے بعد آسانی ہے۔ جس طرح حضرت یعقوب علیہ السلام کو آخر کار اپنے یوسف سے ملاقات ہوئی، اسی طرح اللہ تعالیٰ ہر صابر بندے کو اس کے صبر کا اجر ضرور عطا فرماتا ہے۔
یہاں ایک اور اہم سبق یہ ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں پر لعنت نہیں کی، انہیں بددعا نہیں دی، بلکہ ان کی غلطیوں کو نظر انداز کیا اور اپنے رب کی رحمت پر بھروسہ کیا۔ یہ ایک باپ کا اعلیٰ مقام ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ معاف کرنا، درگزر کرنا اور صبر کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔
📜 آیت 82-86 — یوسف
ترجمہ — یوسف 84
سورہ یوسف آیت 84 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر ان کے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے…سورہ آیت 84/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 82–86. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








