Wa qaalal lazeena kafaroo li Rusulihim lanukhrijanna kum min aardinaaa aw lata`oo dunna fee millatinaa fa awhaaa ilaihim Rabbuhum lanuhlikannaz zalimeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جو کافر تھے انہوں نے اپنے پیغمبروں سے کہا کہ (یا تو) ہم تم کو اپنے ملک سے باہر نکال دیں گے یا ہمارے مذہب میں داخل ہو جاؤ۔ تو پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ظالموں کو ہلاک کر دیں گے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
كافران به پيامبرانشان گفتند: يا شما را از سرزمين خود مىرانيم يا به كيش ما بازگرديد. پس پروردگارشان به پيامبران وحى كرد كه: ستمكاران را هلاك خواهيم كرد.
اور جو کافر تھے انہوں نے اپنے پیغمبروں سے کہا کہ (یا تو) ہم تم کو اپنے ملک سے باہر نکال دیں گے یا ہمارے مذہب میں داخل ہو جاؤ۔ تو پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ظالموں کو ہلاک کر دیں گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لَنُخْرِجَنَّكُم: ہم تمہیں ضرور نکال دیں گے۔
أَوْ لَتَعُودُنَّ: یا تم ضرور لوٹ آؤ گے (یعنی ہمارے دین کی طرف آ جاؤ گے)۔
فِي مِلَّتِنَا: ہمارے دین میں۔
لَنُهْلِكَنَّ: ہم ضرور ہلاک کر دیں گے۔
تفسیر:
جب کافروں کو اپنے انبیاء علیہم السلام کی دعوت کا کوئی جواب نہ ملا اور وہ دلائل سے عاجز آ گئے، تو انہوں نے دھمکی اور طاقت کا سہارا لیا۔ انہوں نے اپنے رسولوں سے کہا: "ہم تمہیں اپنی سرزمین سے ضرور نکال دیں گے، یا پھر تم ہمارے دین میں لوٹ آؤ گے۔" یعنی انہوں نے دو میں سے ایک راستہ چننے پر مجبور کر دیا: یا تو وطن سے جلاوطن ہو جاؤ، یا پھر اپنا دین چھوڑ کر ہمارے دین میں داخل ہو جاؤ۔ یہ کافروں کی ہٹ دھرمی اور سرکشی تھی کہ وہ حق کو ماننے کے بجائے زور زبردستی سے اپنا دین مسلط کرنا چاہتے تھے۔
اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو تسلی اور اطمینان دیتے ہوئے وحی بھیجی: "ہم ضرور ظالموں کو ہلاک کر دیں گے۔" یعنی اللہ نے اپنے پیغمبروں کو یقین دلایا کہ یہ ظلم اور زیادتی بے نتیجہ نہیں رہے گی، اور ان کافروں کو ان کے ظلم کی سزا ضرور دی جائے گی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو کبھی ٹوٹتا نہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ حق پر قائم رہنے والوں کو کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، چاہے مخالفین کتنی ہی دھمکیاں دیں۔ اللہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے اور ظالموں کو ہمیشہ ذلیل و رسوا کرتا ہے۔ آج بھی جو لوگ اللہ کے دین کی دعوت دیتے ہیں، انہیں طرح طرح کی مشکلات اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم صبر اور یقین کے ساتھ حق پر جمے رہیں، کیونکہ انجام کار متقیوں کے لیے ہے اور ظالموں کا انجام ہلاکت ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ کی مدد پر بھروسہ رکھیں اور کسی ظالم کی دھمکی سے خوف نہ کھائیں، کیونکہ اللہ ہی سب سے بڑا محافظ اور مددگار ہے۔
پیغمبروں نے ان سے کہا کہ ہاں ہم تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں۔ لیکن خدا اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے (نبوت کا) احسان کرتا ہے اور ہمارے اختیار کی بات نہیں کہ ہم خدا کے حکم کے بغیر تم کو (تمہاری فرمائش کے مطابق) معجزہ دکھائیں اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیئے
اور ہم کیونکر خدا پر بھروسہ نہ رکھیں حالانکہ اس نے ہم کو ہمارے (دین کے سیدھے) رستے بتائے ہیں۔ جو تکلیفیں تم ہم کو دیتے ہو اس پر صبر کریں گے۔ اور اہل توکل کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے
اور جو کافر تھے انہوں نے اپنے پیغمبروں سے کہا کہ (یا تو) ہم تم کو اپنے ملک سے باہر نکال دیں گے یا ہمارے مذہب میں داخل ہو جاؤ۔ تو پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ظالموں کو ہلاک کر دیں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔