اور ناپاک بات کی مثال ناپاک درخت کی سی ہے (نہ جڑ مستحکم نہ شاخیں بلند) زمین کے اوپر ہی سے اکھیڑ کر پھینک دیا جائے گا اس کو ذرا بھی قرار (وثبات) نہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
کلمہ خبیثہ: ناپاک بات، یعنی شرک اور کفر کا کلمہ۔
شجرہ خبیثہ: ناپاک درخت، جس کا پھل اور سایہ دونوں خراب ہوں۔
اجتثت: جڑ سے اکھاڑ کر الگ کر دیا گیا۔
قرار: استحکام، ٹھہراؤ، جڑ پکڑنا۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے کلمۂ شرک اور کفر کی مثال ایک ناپاک درخت سے دی ہے، جیسے کہ حنظل (کریلا) کا درخت۔ یہ درخت اپنی جڑوں میں بہت کمزور ہوتا ہے، اس کی جڑیں زمین کی سطح کے قریب ہوتی ہیں، نہ اسے زمین میں گہرا ٹھہراؤ ہوتا ہے اور نہ ہی وہ آسمان کی طرف بلند ہو پاتا ہے۔ جیسے ہی کوئی ہوا چلتی ہے یا معمولی سی آندھی آتی ہے، یہ جڑ سے اکھڑ جاتا ہے اور تباہ ہو جاتا ہے۔
بالکل یہی حال کلمۂ کفر اور شرک کا ہے۔ یہ ایک ایسی ناپاک حقیقت ہے جس کی کوئی بنیاد نہیں، نہ اس کا کوئی مستقل وجود ہے اور نہ ہی اس سے کوئی اچھا نتیجہ نکلتا ہے۔ جو شخص اس پر چلتا ہے، اس کا کوئی عمل صالح اللہ تک نہیں پہنچتا، اس کی زندگی بے برکت اور بے ثمر ہوتی ہے، اور آخرت میں اس کا انجام تباہی اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں۔
دعوتی پہلو:
اس مثال سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایمان اور توحید کی جڑیں کتنی مضبوط اور گہری ہوتی ہیں، جبکہ کفر اور شرک کا کوئی وجود نہیں۔ اے بھائیو! اپنے ایمان کو پختہ کریں، اپنے دلوں کو توحید کی مضبوط جڑوں سے جوڑیں، تاکہ زندگی کی ہر آندھی میں آپ ثابت قدم رہیں۔ یاد رکھیں، کلمۂ طیبہ (لا الہٰ الا اللہ) وہ درخت ہے جو جنت میں پھل دیتا ہے، اور کلمۂ خبیثہ وہ درخت ہے جو جہنم کی آگ میں ایندھن بنے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ کلمۂ حق پر ثابت قدم رکھے اور ہمارے اعمال کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین۔
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے پاک بات کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے (وہ ایسی ہے) جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ مضبوط (یعنی زمین کو پکڑے ہوئے) ہو اور شاخیں آسمان میں
خدا مومنوں (کے دلوں) کو (صحیح اور) پکی بات سے دنیا کی زندگی میں بھی مضبوط رکھتا ہے اور آخرت میں بھی (رکھے گا) اور خدا بےانصافوں کو گمراہ کر دیتا ہے اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔