تَكْفُرُوا: تم کفر کرو، ناشکری کرو، اللہ کی نعمتوں کا انکار کرو۔
غَنِیٌّ: بے نیاز، جو کسی کا محتاج نہ ہو، جسے کسی کی عبادت یا اطاعت کی ضرورت نہ ہو۔
حَمِیدٌ: ہر حال میں تعریف کے لائق، جس کی ہر حالت میں تعریف کی جائے، جو اپنی ذات سے مستحقِ حمد و ثنا ہو۔
تفسیر:
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اگر تم اور روئے زمین کے تمام رہنے والے، چاہے وہ انسان ہوں یا جنات، سب کے سب اللہ کا کفر کریں، اس کی نافرمانی کریں اور اس کی نعمتوں کا انکار کریں، تو اس سے اللہ تعالیٰ کو ذرہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات سے بے نیاز ہے، اسے کسی کی عبادت کی ضرورت نہیں، نہ اس کی بندگی سے کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ کفر سے کوئی نقصان۔ وہ ہر حال میں تعریف کے لائق ہے، چاہے سارے لوگ اس کی حمد کریں یا نہ کریں، اس کی ذات ہمیشہ سے محمود اور مستحقِ ثنا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی عبادت کا فائدہ دراصل خود انسان کو ہوتا ہے، کیونکہ ایمان اور اطاعت سے انسان کا اپنا مقام بلند ہوتا ہے، اس کے دل کو سکون ملتا ہے اور اس کی آخرت سنورتی ہے۔ جبکہ کفر اور نافرمانی کا نقصان بھی خود انسان ہی کو پہنچتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اسے کسی کی عبادت سے فائدہ ہو یا کسی کے کفر سے نقصان۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمارا ایمان اور عمل اللہ کے لیے نہیں بلکہ ہمارے اپنے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی رحمت سے پیدا کیا، ہدایت دی اور عبادت کا شرف عطا کیا تاکہ ہم خود ترقی کریں اور اپنی آخرت سنواریں۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کا شکر ادا کریں، اس کی عبادت کریں اور اس کی نعمتوں کو پہچانیں، کیونکہ یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بے نیاز ہے، لیکن بندے اللہ سے بے نیاز نہیں ہو سکتے، ہر لمحہ ہمیں اس کی رحمت، اس کی مدد اور اس کی بخشش کی ضرورت ہے۔
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا نے جو تم پر مہربانیاں کی ہیں ان کو یاد کرو جب کہ تم کو فرعون کی قوم (کے ہاتھ) سے مخلصی دی وہ لوگ تمہیں بُرے عذاب دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو مار ڈالتے تھے اور عورت ذات یعنی تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی
بھلا تم کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے تھے (یعنی) نوح اور عاد اور ثمود کی قوم۔ اور جو ان کے بعد تھے۔ جن کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں (جب) ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دیئے (کہ خاموش رہو) اور کہنے لگے کہ ہم تو تمہاری رسالت کو تسلیم نہیں کرتے اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے قوی شک میں ہیں
ان کے پیغمبروں نے کہا کیا (تم کو) خدا (کے بارے) میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ وہ تمہیں اس لیے بلاتا ہے کہ تمہارے گناہ بخشے اور (فائدہ پہنچانے کے لیے) ایک مدت مقرر تک تم کو مہلت دے۔ وہ بولے کہ تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو۔ تمہارا یہ منشاء ہے کہ جن چیزوں کو ہمارے بڑے پوجتے رہے ہیں ان (کے پوجنے) سے ہم کو بند کر دو تو (اچھا) کوئی کھلی دلیل لاؤ (یعنی معجزہ دکھاؤ)
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔