ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- یومِ الوقتِ المعلوم: وہ وقت جو اللہ تعالیٰ کے علم میں مقرر ہے، یعنی موت کا دن۔
تفسیر آیت:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کی اس درخواست کا جواب بیان فرمایا ہے جب اس نے کہا تھا کہ مجھے قیامت کے دن تک مہلت دی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے مہلت تو دی، لیکن قیامت کے دن تک نہیں، بلکہ ایک معین اور مقررہ وقت تک، جو اس کے علمِ ازلی میں طے شدہ ہے۔ وہ وقت "نفخہ اولیٰ" کا دن ہے، جب صور میں پہلی بار پھونک ماری جائے گی اور تمام مخلوقات ہلاک ہو جائیں گی۔ یہ قیامت کا دن نہیں ہے، بلکہ اس سے پہلے کا ایک مرحلہ ہے جب سب جاندار موت کا مزہ چکھیں گے۔
یہ مہلت شیطان کے لیے رحمت نہیں، بلکہ اس کے لیے آزمائش اور امتحان کا سامان ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اسے اس لیے دی تاکہ بنی آدم کے لیے آزمائش مکمل ہو اور لوگوں کے ایمان و عمل کا امتحان ہو۔ شیطان کو یہ مہلت دے کر اللہ تعالیٰ نے یہ ثابت کیا کہ وہ اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا، بلکہ انہیں صبر اور تقویٰ کی راہ دکھاتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت کے آگے ہر مخلوق سر تسلیم خم کرتی ہے۔ شیطان کو مہلت ملنا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے تاکہ ان کا مقام بلند ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم شیطان کے دھوکے سے بچیں اور اللہ کی رحمت اور ہدایت کو اپنے لیے ذریعہ نجات بنائیں۔ یہ مہلت ہمارے لیے تنبیہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو غفلت میں نہ گنوائیں، کیونکہ موت کا وقت مقرر ہے اور اس کے بعد ہی حساب کا دن آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو مہلت دے کر ہمیں یہ موقع دیا ہے کہ ہم توبہ کریں اور اپنے اعمال سنواریں، کیونکہ وہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
📜 آیت 36-40 — حجر
ترجمہ — حجر 38
سورہ حجر آیت 38 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : وقت مقرر (یعنی قیامت) کے دن تکسورہ آیت 38/99 — حجر الحجر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حجر سنیں, حجر ترجمہ, حجر mp3, حجر pdf. آیت 36–40. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








