ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مِنَ الْمُنظَرِينَ: اُن لوگوں میں سے جنہیں مہلت دی گئی ہو، یعنی جن کی موت کو مؤخر کر دیا گیا ہو۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کے اس سوال کا جواب دیا جو اس نے قیامت تک مہلت دینے کی درخواست کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اے ابلیس! تجھے مہلت دی جاتی ہے، تو اُن لوگوں میں سے ہے جن کی موت کو ایک خاص وقت تک کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔" یہ مہلت قیامت تک نہیں، بلکہ صرف اُس دن تک ہے جب پہلی صور پھونکی جائے گی اور تمام مخلوقات کی ارواح قبض کر لی جائیں گی۔ یعنی شیطان کو اُس وقت تک زندہ رہنے کی اجازت دی گئی جب تک تمام انسانوں کی موت واقع نہ ہو جائے، لیکن یہ مہلت قیامت کے دن تک نہیں ہے۔
یہ مہلت دراصل اللہ تعالیٰ کی حکمت پر مبنی تھی، تاکہ شیطان کا امتحان جاری رہے اور بنی آدم کے لیے آزمائش کا سامان ہو۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو اس لیے مہلت دی تاکہ وہ اپنی حقیقت ظاہر کرے اور لوگ اس کے دھوکے سے بچ کر اللہ کی اطاعت کا راستہ اختیار کریں۔ یہ مہلت رحمت نہیں بلکہ استدراج تھی، یعنی شیطان کو مزید رسوا کرنے اور اس کے جرم کو بڑھانے کے لیے دی گئی تھی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہلت کبھی کبھار عذاب کی شکل میں ہوتی ہے، نہ کہ رحمت کی۔ شیطان کو مہلت ملنے کے باوجود وہ ہمیشہ کے لیے ملعون اور رحمت سے محروم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی اطاعت کریں اور شیطان کے دھوکے سے بچیں، کیونکہ شیطان ہمارا کھلا دشمن ہے اور وہ ہمیں گمراہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور قرآن دیا ہے تاکہ ہم شیطان کے حملوں سے محفوظ رہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہر وقت اللہ کی پناہ مانگیں اور شیطان کے وسوسوں سے بچنے کے لیے ذکر و اطاعت کا سہارا لیں۔
📜 آیت 35-39 — حجر
ترجمہ — حجر 37
سورہ حجر آیت 37 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : فرمایا کہ تجھے مہلت دی جاتی ہےسورہ آیت 37/99 — حجر الحجر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حجر سنیں, حجر ترجمہ, حجر mp3, حجر pdf. آیت 35–39. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








