ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لَا جَرَمَ: حقاً، یقیناً، بلا شک۔
- الْخَاسِرُونَ: نقصان اٹھانے والے، تباہ و برباد ہونے والے۔
تفسیرِ آیہ:
حق تعالیٰ اس آیت میں ان لوگوں کے انجامِ بد کا فیصلہ فرما رہے ہیں جنہوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا اور اللہ کی راہ سے منہ موڑ لیا۔ فرمایا کہ "یقیناً وہ آخرت میں حقیقی خسارے والے ہیں" ۔ یعنی ان کا نقصان کوئی معمولی نہیں، بلکہ ایسا خسارہ ہے جس کے بعد کوئی نفع نہیں، اور ایسی تباہی ہے جس کے بعد کوئی بحالی نہیں۔
یہ خسارہ کیا ہے؟ یہ کہ انہوں نے اپنی جانوں کو ہلاکت میں ڈال دیا۔ وہ جنت اور اس کی ابدی نعمتوں سے محروم رہے، اور جہنم کی آگ میں ہمیشہ کے لیے پڑے رہیں گے۔ انہوں نے ایمان کی دولت کو کفر کے بدلے بیچ دیا، حالانکہ وہ ایمان پر قائم رہتے تو جنت ان کا مقدر بنتی۔ مگر انہوں نے دنیا کی چند روزہ خواہشات اور گمراہی کو آخرت کی ہمیشہ کی کامیابی پر ترجیح دی، چنانچہ وہ دونوں جہانوں میں نقصان اٹھا کر رہ گئے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ رب العزت ہمیں متنبہ فرما رہے ہیں کہ ایمان سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ جس نے اسے کھو دیا، اس نے سب کچھ کھو دیا۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے ایمان کی حفاظت کریں، اسے کمزور نہ ہونے دیں، اور کبھی بھی دنیا کی چمک دمک پر آخرت کی کامیابی کو نہ بیچیں۔ یہ خسارہ ایسا ہے جس کا کوئی ازالہ نہیں، اور یہ نقصان ایسا ہے جس کے بعد کوئی فائدہ نہیں۔ اللہ ہمیں ثابت قدمی عطا فرمائے اور ایمان پر قائم رکھے۔ آمین۔
📜 آیت 107-111 — نحل
ترجمہ — نحل 109
سورہ نحل آیت 109 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کچھ شک نہیں کہ یہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والے…سورہ آیت 109/128 — نحل النحل (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نحل سنیں, نحل ترجمہ, نحل mp3, نحل pdf. آیت 107–111. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








