ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تَقَلُّبِهِمْ: ان کی آمد و رفت، سفر، کاروبار اور روزمرہ کی مصروفیات میں گھومنا پھرنا۔
- بِمُعْجِزِینَ: اللہ کو عاجز کرنے والے، اللہ کی گرفت سے بھاگ نکلنے والے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کفار کو ڈراتے ہوئے فرماتا ہے کہ کیا یہ لوگ اس بات سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ اللہ انہیں انہی کی مصروفیات اور آمد و رفت کے دوران پکڑ لے؟ یعنی جس وقت یہ اپنے کاروبار، تجارت، سفر اور روزمرہ کے معاملات میں مشغول ہوں، اسی وقت ان پر عذاب نازل کر دے۔ یہ لوگ اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں اور نہ ہی باہر نکل کر وہ اللہ کی گرفت سے بچ سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کفار اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہیں۔ وہ چاہے جہاں بھی جائیں، جس حالت میں بھی ہوں، اللہ کی قدرت سے باہر نہیں نکل سکتے۔ اللہ تعالیٰ ہر وقت ان پر قادر ہے اور جب چاہے انہیں پکڑ سکتا ہے۔
یہ آیت ہمیں اللہ کی عظمت اور قدرت کا احساس دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر لمحہ ہم پر نظر رکھتا ہے۔ ہم جہاں بھی ہوں، جس حالت میں بھی ہوں، اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ یہ بات مومن کے لیے باعثِ اطمینان ہے کہ اللہ اس کا محافظ ہے، اور کافر کے لیے باعثِ خوف ہے کہ وہ اللہ کے عذاب سے کہیں بھی محفوظ نہیں۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے اور اپنے اعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔ ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہماری مصروفیات اور مشاغل ہمیں اللہ کی گرفت سے بچا لیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی وسیع ہے اور اس کا عذاب بھی سخت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی اطاعت کریں اور اس کے احکام پر عمل کریں تاکہ ہم اس کے عذاب سے محفوظ رہیں اور اس کی رحمت کے مستحق بنیں۔
یاد رکھیں! اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اور توبہ کرنے والوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کی نافرمانی سے بچیں اور اس کی رحمت کے طلب گار بنیں۔
📜 آیت 44-48 — نحل
ترجمہ — نحل 46
سورہ آیت 46/128 — نحل النحل (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نحل سنیں, نحل ترجمہ, نحل mp3, نحل pdf. آیت 44–48. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








