اسراء · 26/111
ترجمہ تلفظ — اسراء
وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا ۝٢٦
Wa aati zal qurbaa haqqahoo walmiskeena wabnas sabeeli wa laa tubazzir tabzeeraa
📖 اردو ترجمہ
اور رشتہ داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو۔ اور فضول خرچی سے مال نہ اُڑاؤ

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • ذَا الْقُرْبَىٰ: قریبی رشتہ دار
  • الْمِسْكِينَ: حاجت مند، محتاج
  • ابْنَ السَّبِيلِ: مسافر جو راستے میں ہو اور اس کے پاس خرچ نہ ہو
  • لَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا: فضول خرچی مت کرو، مال کو برباد مت کرو

تفسیر:

اے مسلمان! اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ان کا حق دو، یعنی ان کے ساتھ حسن سلوک کرو، ان کی مدد کرو، ان کی خبرگیری کرو اور ان کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ یہ صرف زبانی محبت کا تقاضا نہیں، بلکہ عملی طور پر ان کی ضروریات پوری کرنا بھی شامل ہے۔

اسی طرح مسکینوں (حاجت مندوں) اور ابنِ سبیل (مسافروں) کا بھی خیال رکھو۔ مسکین وہ ہے جو محتاج ہو اور اس کے پاس ضرورت سے زیادہ کچھ نہ ہو، اور ابنِ سبیل وہ مسافر ہے جو راستے میں ہو اور اس کے پاس خرچ نہ ہو۔ ان سب کو ان کا حق دو، خواہ وہ زکاۃ کی صورت میں ہو یا صدقہ و خیرات کی صورت میں۔

پھر اللہ تعالیٰ ایک اہم تنبیہ فرماتا ہے: "اور فضول خرچی مت کرو" یعنی اپنے مال کو اس طرح مت اڑاؤ جو اللہ کی نافرمانی میں ہو، یا اسراف و تبذیر کے ساتھ ہو۔ تبذیر یہ ہے کہ مال کو فساد میں خرچ کیا جائے، یا اسے اس طرح ضائع کیا جائے جس میں کوئی شرعی فائدہ نہ ہو۔ یاد رکھو، مال اللہ کی امانت ہے اور اس کا صحیح استعمال کرنا بھی عبادت ہے۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اللہ نے ہمیں جو مال دیا ہے، وہ صرف ہمارے لیے نہیں، بلکہ اس میں دوسروں کا بھی حق ہے۔ جب ہم اپنے رشتہ داروں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھتے ہیں، تو ہمارے دلوں میں محبت بڑھتی ہے، معاشرہ مضبوط ہوتا ہے، اور اللہ کی رحمت ہم پر نازل ہوتی ہے۔

دوسری طرف فضول خرچی نہ صرف ہمارے مال کو ضائع کرتی ہے، بلکہ ہمیں اللہ کی نافرمانی میں بھی مبتلا کر سکتی ہے۔ جو شخص اپنے مال کو صحیح راستے پر خرچ کرتا ہے، اللہ اسے برکت دیتا ہے، اور جو فضول خرچی کرتا ہے، اس کا مال ختم ہو جاتا ہے اور اسے پشیمانی اٹھانی پڑتی ہے۔

آئیے ہم اس آیت پر عمل کریں، اپنے رشتہ داروں کے حقوق ادا کریں، ضرورت مندوں کی مدد کریں، اور فضول خرچی سے بچیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اللہ کی محبت اور کامیابی تک پہنچاتا ہے۔



📜 آیت 24-28 — اسراء

24وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
اور عجزو نیاز سے ان کے آگے جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں (شفقت سے) پرورش کیا ہے تو بھی اُن (کے حال) پر رحمت فرما
25رَّبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمْ ۚ إِن تَكُونُوا صَالِحِينَ فَإِنَّهُ كَانَ لِلْأَوَّابِينَ غَفُورًا
جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تمہارا پروردگار اس سے بخوبی واقف ہے۔ اگر تم نیک ہوگے تو وہ رجوع لانے والوں کو بخش دینے والا ہے
26وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا
اور رشتہ داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو۔ اور فضول خرچی سے مال نہ اُڑاؤ
27إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ ۖ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا
کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں۔ اور شیطان اپنے پروردگار (کی نعمتوں) کا کفر ان کرنے والا (یعنی ناشکرا) ہے
28وَإِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِّن رَّبِّكَ تَرْجُوهَا فَقُل لَّهُمْ قَوْلًا مَّيْسُورًا
اور اگر تم نے اپنے پروردگار کی رحمت (یعنی فراخ دستی) کے انتظار میں جس کی تمہیں امید ہو ان (مستحقین) کی طرف توجہ نہ کرسکو اُن سے نرمی سے بات کہہ دیا کرو
اسراءقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
26آیت

ترجمہ — اسراء 26

سورہ اسراء آیت 26 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور رشتہ داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا…

سورہ آیت 26/111 — اسراء الإسراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اسراء سنیں, اسراء ترجمہ, اسراء mp3, اسراء pdf. آیت 24–28. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں