اسراء · 85/111
ترجمہ تلفظ — اسراء
وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ ۖ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا ۝٨٥
Wa yas`aloonaka `anirrooh; qulir roohu min amri rabbee wa maaa ooteetum minal `ilmi illaa qaleelaa
📖 اردو ترجمہ
اور تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ میرے پروردگار کی ایک شان ہے اور تم لوگوں کو (بہت ہی) کم علم دیا گیا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الرُّوحِ: اس سے مراد وہ روح ہے جو انسان کے جسم میں زندگی کا باعث ہے، یا یہاں سوال اس حقیقت کے بارے میں ہے جو روح کے جوہر اور اس کی کیفیت سے متعلق ہے۔
  • مِنْ أَمْرِ رَبِّي: میرے رب کے حکم (اور اس کے علم) میں سے ہے، یعنی یہ اس کے خاص علم اور قدرت کا معاملہ ہے۔
  • مَا أُوتِيتُم: جو تمہیں دیا گیا ہے۔
  • إِلَّا قَلِيلًا: مگر بہت تھوڑا۔

تفسیر:

اے محبوب رسول! یہود اور کفارِ مکہ آپ سے روح کی حقیقت کے بارے میں سوال کرتے ہیں، نہ کہ سیکھنے اور ہدایت پانے کی نیت سے، بلکہ محض تعنت اور امتحان کے طور پر۔ وہ چاہتے ہیں کہ آپ روح کی کنہ اور اس کی ماہیت بیان کریں، حالانکہ یہ علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ انہیں جواب دیں: "روح میرے رب کے حکم (اور اس کے خاص علم) میں سے ہے" یعنی روح کی حقیقت، اس کا نزول، اس کا تعلق جسم سے، اور اس کے احوال — یہ سب کچھ اللہ کے علمِ غیب کا حصہ ہے، جو اس نے اپنے پاس محفوظ رکھا ہے۔ کسی بشر کو اس کی مکمل کنہ کا علم نہیں دیا گیا۔

پھر اللہ تعالیٰ ایک عظیم حقیقت بیان فرماتا ہے: "اور تمہیں (اے تمام انسانو!) علم میں سے بہت تھوڑا سا دیا گیا ہے۔" یہ خطاب صرف سوال کرنے والوں کو نہیں، بلکہ تمام انسانوں کو ہے — چاہے وہ مؤمن ہوں یا کافر، عالم ہوں یا جاہل۔ انسانوں کا سارا علم، خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اللہ کے علمِ لامحدود کے مقابلے میں ایک قطرہ ہے جو سمندر کے سامنے ہو۔ یہ آیت انسان کو عاجزی اور انکساری سکھاتی ہے کہ وہ اپنے علم پر گھمنڈ نہ کرے، کیونکہ اللہ کا علم ہی کامل اور محیط ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہم اپنے محدود علم پر فخر نہ کریں، بلکہ اللہ کی عظمت اور اس کے علمِ بےپایاں کے سامنے سر تسلیم خم کریں۔ جب ہمیں روح جیسی اپنی ذات کی چیز کی حقیقت کا مکمل علم نہیں، تو ہمیں کیسے اللہ کی ذات، اس کی صفات اور اس کے احکامات پر اعتراض کرنے کی جرات ہو سکتی ہے؟ یہ آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے خالق کے سامنے عاجزی اختیار کریں، اس کے نازل کردہ علمِ قرآنی پر عمل کریں، اور یقین رکھیں کہ جو کچھ اللہ نے ہمیں دیا ہے، وہی ہماری ہدایت اور کامیابی کے لیے کافی ہے۔ جو شخص اس حقیقت کو سمجھ لے، وہ کبھی گمراہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ علم کا سرچشمہ صرف اللہ ہے، اور اس نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعے جو علم عطا کیا ہے، وہی سچا اور مکمل ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 83-87 — اسراء

83وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنسَانِ أَعْرَضَ وَنَأَىٰ بِجَانِبِهِ ۖ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يَئُوسًا
اور جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو ردگرداں ہوجاتا اور پہلو پھیر لیتا ہے۔ اور جب اسے سختی پہنچتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے
84قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَىٰ شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَىٰ سَبِيلًا
کہہ دو کہ ہر شخص اپنے طریق کے مطابق عمل کرتا ہے۔ سو تمہارا پروردگار اس شخص سے خوب واقف ہے جو سب سے زیادہ سیدھے رستے پر ہے
85وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ ۖ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا
اور تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ میرے پروردگار کی ایک شان ہے اور تم لوگوں کو (بہت ہی) کم علم دیا گیا ہے
86وَلَئِن شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهِ عَلَيْنَا وَكِيلًا
اور اگر ہم چاہیں تو جو (کتاب) ہم تمہاری طرف بھیجتے ہیں اسے (دلوں سے) محو کردیں۔ پھر تم اس کے لئے ہمارے مقابلے میں کسی کو مددگار نہ پاؤ
87إِلَّا رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ ۚ إِنَّ فَضْلَهُ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيرًا
مگر (اس کا قائم رہنا) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے۔ کچھ شک نہیں کہ تم پر اس کا بڑا فضل ہے
اسراءقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
85آیت

ترجمہ — اسراء 85

سورہ اسراء آیت 85 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔…

سورہ آیت 85/111 — اسراء الإسراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اسراء سنیں, اسراء ترجمہ, اسراء mp3, اسراء pdf. آیت 83–87. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں