ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- بحر: سمندر، بڑا پانی کا ذخیرہ۔
- مداد: روشنائی، سیاہی جو قلم میں ڈالی جاتی ہے۔
- کلمات ربی: میرے رب کے کلمات، یعنی اللہ تعالیٰ کے وعدے، وعید، حکمتیں اور اس کی مخلوقات کے بارے میں اس کا علم و ارادہ۔
- تنفد: ختم ہو جائیں، فنا ہو جائیں۔
- مدداً: مدد کے طور پر، اضافہ کے طور پر۔
تفسیر:
اے نبی! آپ لوگوں سے فرما دیجیے کہ اگر سمندر کا سارا پانی روشنائی بن جائے اور اس سے میرے رب کے کلمات لکھے جانے لگیں، تو وہ سمندر ختم ہو جائے گا لیکن میرے رب کے کلمات ختم نہیں ہوں گے۔ اور اگر ہم اسی جیسا ایک اور سمندر بھی اس کی مدد کے لیے لا دیں، تب بھی وہ سب ختم ہو جائیں گے مگر اللہ کے کلمات کبھی ختم نہیں ہوں گے۔
یہ آیت اللہ تعالیٰ کی عظمت، اس کے علم کی وسعت اور اس کی قدرت کی بے پایانی کو بیان کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کلمات سے مراد اس کے وعدے، وعید، حکمتیں اور اس کی مخلوقات کے بارے میں اس کا علم ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو اسے صرف "کن" (ہو جا) کہتا ہے، اور وہ چیز فوراً وجود میں آ جاتی ہے۔ اس لیے اللہ کے کلمات کا شمار ممکن نہیں، وہ لامحدود ہیں۔
یہ آیت ہمیں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کی عظمت پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ جب اللہ کے کلمات لکھنے کے لیے سارے سمندر روشنائی بن جائیں تب بھی وہ ختم نہ ہوں، تو پھر اللہ کی قدرت اور علم کا اندازہ کون لگا سکتا ہے؟ یہ ہمارے لیے ایک سبق ہے کہ ہم اللہ کی عظمت کو سمجھیں، اس کے علم کی وسعت پر ایمان لائیں، اور اس کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کریں۔
اللہ تعالیٰ کی صفت کلام حقیقی ہے، جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے۔ وہ بولتا ہے، حکم دیتا ہے، وعدہ کرتا ہے اور وعید سناتا ہے۔ ہم اس کی کلام پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن اس کی کیفیت کو نہیں جانتے، کیونکہ اللہ کی صفات اس کی ذات کے مطابق ہیں، مخلوق کی صفات کی مانند نہیں۔
اس آیت سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ اللہ کا علم اور اس کی حکمتیں لامحدود ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ کے علم کے مقابلے میں اپنی جہالت کا اعتراف کرے، اور اللہ کی کتاب اور اس کے کلام پر غور کرے۔ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے، جو ہمیشہ قائم رہنے والا ہے، اور قیامت تک اس کی حفاظت کا وعدہ اللہ نے خود کیا ہے۔
اے مسلمان بھائیو! اس آیت پر غور کریں اور اللہ کی عظمت کو دل سے محسوس کریں۔ جب اللہ کے کلمات لکھنے کے لیے سمندر ختم ہو جائیں گے مگر اس کے کلمات ختم نہیں ہوں گے، تو ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی کتاب قرآن کو پڑھیں، اس پر عمل کریں، اور اس کے ذریعے اپنی زندگیوں کو روشن کریں۔ اللہ کا کلام ہی وہ نور ہے جو ہمیں جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ ہمیں اپنے کلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 107-110 — کہف
ترجمہ — کہف 109
سورہ کہف آیت 109 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کہہ دو کہ اگر سمندر میرے پروردگار کی باتوں کے…سورہ آیت 109/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 107–110. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








