بقرہ · 138/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
صِبْغَةَ اللَّهِ ۖ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً ۖ وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ ۝١٣٨
Sibghatal laahi wa man ahsanu minal laahi sibghatanw wa nahnu lahoo `aabidoon
📖 اردو ترجمہ
(کہہ دو کہ ہم نے) خدا کا رنگ (اختیار کر لیا ہے) اور خدا سے بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے۔ اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • صِبْغَةَ اللہِ: اللہ کا دین، اللہ کی فطرت۔ اسے "صبغہ" اس لیے کہا گیا کہ جس طرح رنگ کپڑے پر ظاہر ہوتا ہے، اسی طرح دین کا اثر متدین شخص پر ظاہر ہوتا ہے۔
  • عَابِدُونَ: عبادت کرنے والے، اطاعت گزار، فرمانبردار۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے مومنین! تم اللہ کے اس دین کو مضبوطی سے تھام لو جو اس نے تمہاری فطرت میں ودیعت کیا ہے، اور جس پر اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ یہ دینِ اسلام ہی ہے، جو تمام انبیاء علیہم السلام کا دین رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے "صبغہ" یعنی رنگ سے تشبیہ دی ہے، کیونکہ جس طرح رنگ کپڑے کو اپنا اثر دیتا ہے اور اسے بدل دیتا ہے، اسی طرح دینِ اسلام بھی انسان کے ظاہر و باطن پر گہرا اثر چھوڑتا ہے، اس کے اخلاق، عادات اور طرزِ زندگی کو بدل کر سنوار دیتا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور اللہ کے رنگ سے بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے؟" یعنی کیا کوئی ایسا دین، کوئی ایسا طریقہ اور کوئی ایسی فطرت ہے جو اللہ کے دین سے بہتر ہو؟ ہرگز نہیں! کیونکہ اللہ کا دین فطرتِ انسانی کے عین مطابق ہے، یہ مصلحتیں حاصل کرنے والا اور مفاسد کو دور کرنے والا ہے۔ یہ وہ واحد راستہ ہے جو انسان کو دنیا میں سکون اور آخرت میں کامیابی عطا کرتا ہے۔

آخر میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو یہ تلقین فرماتا ہے کہ وہ کہیں: "اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔" یعنی ہم صرف اللہ کے بندے ہیں، اسی کے آگے جھکتے ہیں، اسی کے حکموں کو مانتے ہیں، اور اسی کی رضا کے طلبگار ہیں۔ ہم اپنے رب کی اطاعت میں ابراہیم علیہ السلام کی ملت کی پیروی کرتے ہیں، اور اس پر ثابت قدم رہیں گے۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک عظیم حقیقت سے روشناس کراتی ہے کہ اللہ کا دین ہی واحد سچا دین ہے، اور یہی ہماری فطرت کا تقاضا ہے۔ جس طرح ایک نیا کپڑا رنگنے سے خوبصورت اور نمایاں ہو جاتا ہے، اسی طرح جب ہم اپنے دلوں کو ایمان اور اپنے اعمال کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھال لیتے ہیں، تو ہماری زندگیاں بھی خوبصورت اور معنی خیز بن جاتی ہیں۔

آج کا انسان سکون اور اطمینان کی تلاش میں بھٹک رہا ہے، مگر اسے معلوم نہیں کہ اصل سکون اسی دین میں ہے جسے اللہ نے ہمارے لیے پسند فرمایا ہے۔ جب ہم اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کے حوالے کر دیں گے، اسی کی عبادت کریں گے اور اسی کے احکام پر چلیں گے، تو ہمارے دلوں کو حقیقی سکون ملے گا اور ہماری زندگیاں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوں گی۔

آئیے! ہم سب اس عظیم نعمت یعنی دینِ اسلام کو اپنائے رکھیں، اس پر ثابت قدم رہیں، اور اپنے رب کے سامنے یہ عہد کریں کہ ہم اسی کے عابد ہیں، اسی کے بندے ہیں، اور اسی کی رضا کی خاطر جیتے ہیں۔ اللہ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

🎧 سنیں

📜 آیت 136-140 — بقرہ

136قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
(مسلمانو) کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر اتری، اس پر اور جو (صحیفے) ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل ہوئے ان پر اور جو (کتابیں) موسیٰ اور عیسی کو عطا ہوئیں، ان پر، اور جو اور پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملیں، ان پر (سب پر ایمان لائے) ہم ان پیغمروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرمانبردار ہیں
137فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ ۖ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
تو اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہو جائیں اور اگر منہ پھیر لیں (اور نہ مانیں) تو وہ (تمھارے) مخالف ہیں اور ان کے مقابلے میں تمھیں خدا کافی ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے
138صِبْغَةَ اللَّهِ ۖ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً ۖ وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ
(کہہ دو کہ ہم نے) خدا کا رنگ (اختیار کر لیا ہے) اور خدا سے بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے۔ اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں
139قُلْ أَتُحَاجُّونَنَا فِي اللَّهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ وَلَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ
(ان سے) کہو، کیا تم خدا کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو، حالانکہ وہی ہمارا اور تمھارا پروردگار ہے اور ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور ہم خاص اسی کی عبادت کرنے والے ہیں
140أَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطَ كَانُوا هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ قُلْ أَأَنتُمْ أَعْلَمُ أَمِ اللَّهُ ۗ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَتَمَ شَهَادَةً عِندَهُ مِنَ اللَّهِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
(اے یہود ونصاریٰ) کیا تم اس بات کے قائل ہو کہ ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا عیسائی تھے۔ (اے محمدﷺ ان سے) کہو کہ بھلا تم زیادہ جانتے ہو یا خدا؟ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون، جو خدا کی شہادت کو، جو اس کے پاس (کتاب میں موجود) ہے چھپائے۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو، خدا اس سے غافل نہیں
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
138آیت

ترجمہ — بقرہ 138

سورہ بقرہ آیت 138 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (کہہ دو کہ ہم نے) خدا کا رنگ (اختیار کر…

سورہ آیت 138/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 136–140. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں