ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- صِبْغَةَ اللہِ: اللہ کا دین، اللہ کی فطرت۔ اسے "صبغہ" اس لیے کہا گیا کہ جس طرح رنگ کپڑے پر ظاہر ہوتا ہے، اسی طرح دین کا اثر متدین شخص پر ظاہر ہوتا ہے۔
- عَابِدُونَ: عبادت کرنے والے، اطاعت گزار، فرمانبردار۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے مومنین! تم اللہ کے اس دین کو مضبوطی سے تھام لو جو اس نے تمہاری فطرت میں ودیعت کیا ہے، اور جس پر اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ یہ دینِ اسلام ہی ہے، جو تمام انبیاء علیہم السلام کا دین رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے "صبغہ" یعنی رنگ سے تشبیہ دی ہے، کیونکہ جس طرح رنگ کپڑے کو اپنا اثر دیتا ہے اور اسے بدل دیتا ہے، اسی طرح دینِ اسلام بھی انسان کے ظاہر و باطن پر گہرا اثر چھوڑتا ہے، اس کے اخلاق، عادات اور طرزِ زندگی کو بدل کر سنوار دیتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور اللہ کے رنگ سے بہتر رنگ کس کا ہو سکتا ہے؟" یعنی کیا کوئی ایسا دین، کوئی ایسا طریقہ اور کوئی ایسی فطرت ہے جو اللہ کے دین سے بہتر ہو؟ ہرگز نہیں! کیونکہ اللہ کا دین فطرتِ انسانی کے عین مطابق ہے، یہ مصلحتیں حاصل کرنے والا اور مفاسد کو دور کرنے والا ہے۔ یہ وہ واحد راستہ ہے جو انسان کو دنیا میں سکون اور آخرت میں کامیابی عطا کرتا ہے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو یہ تلقین فرماتا ہے کہ وہ کہیں: "اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔" یعنی ہم صرف اللہ کے بندے ہیں، اسی کے آگے جھکتے ہیں، اسی کے حکموں کو مانتے ہیں، اور اسی کی رضا کے طلبگار ہیں۔ ہم اپنے رب کی اطاعت میں ابراہیم علیہ السلام کی ملت کی پیروی کرتے ہیں، اور اس پر ثابت قدم رہیں گے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک عظیم حقیقت سے روشناس کراتی ہے کہ اللہ کا دین ہی واحد سچا دین ہے، اور یہی ہماری فطرت کا تقاضا ہے۔ جس طرح ایک نیا کپڑا رنگنے سے خوبصورت اور نمایاں ہو جاتا ہے، اسی طرح جب ہم اپنے دلوں کو ایمان اور اپنے اعمال کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھال لیتے ہیں، تو ہماری زندگیاں بھی خوبصورت اور معنی خیز بن جاتی ہیں۔
آج کا انسان سکون اور اطمینان کی تلاش میں بھٹک رہا ہے، مگر اسے معلوم نہیں کہ اصل سکون اسی دین میں ہے جسے اللہ نے ہمارے لیے پسند فرمایا ہے۔ جب ہم اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کے حوالے کر دیں گے، اسی کی عبادت کریں گے اور اسی کے احکام پر چلیں گے، تو ہمارے دلوں کو حقیقی سکون ملے گا اور ہماری زندگیاں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوں گی۔
آئیے! ہم سب اس عظیم نعمت یعنی دینِ اسلام کو اپنائے رکھیں، اس پر ثابت قدم رہیں، اور اپنے رب کے سامنے یہ عہد کریں کہ ہم اسی کے عابد ہیں، اسی کے بندے ہیں، اور اسی کی رضا کی خاطر جیتے ہیں۔ اللہ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
📜 آیت 136-140 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 138
سورہ بقرہ آیت 138 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (کہہ دو کہ ہم نے) خدا کا رنگ (اختیار کر…سورہ آیت 138/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 136–140. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








