ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- آمَنَّا: ہم ایمان لائے، ہم نے تصدیق کی۔
- بِالْيَوْمِ الْآخِرِ: قیامت کے دن سے، جو آخرت کا پہلا مرحلہ ہے۔
- وَمَا هُم بِمُؤْمِنِينَ: حالانکہ وہ حقیقت میں مومن نہیں ہیں۔
تفسیرِ آیہ:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ منافقین کے بارے میں بتا رہے ہیں، جو لوگوں میں گھل مل کر رہتے ہیں اور اپنی زبان سے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: "ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں"، لیکن ان کے دل اس دعوے کی تصدیق نہیں کرتے۔ حقیقت میں وہ ایمان کے بغیر ہیں، کیونکہ ایمان صرف زبان کا اقرار نہیں، بلکہ دل کی تصدیق اور اعمال کی گواہی بھی چاہتا ہے۔
یہ منافقین اپنے قول سے صرف اپنی جان اور مال کی حفاظت چاہتے ہیں، اور ڈرتے ہیں کہ اگر وہ اپنا کفر ظاہر کریں گے تو مسلمانوں کی طرف سے انہیں نقصان پہنچے گا۔ اس لیے وہ ظاہر میں اسلام کا اظہار کرتے ہیں، لیکن باطن میں کفر و نفاق رکھتے ہیں۔
یہ آیت مومنین کے لیے ایک سبق ہے کہ وہ ظاہری باتوں پر اعتماد نہ کریں، بلکہ اللہ سے تعلق اور خلوصِ نیت کو اہمیت دیں۔ نیز یہ بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے، اور وہ منافقین کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمان ایک سچا اور خلوص والا تعلق ہے جو اللہ سے ہوتا ہے۔ یہ محض زبانی دعویٰ نہیں، بلکہ دل کی گہرائی سے اللہ پر بھروسہ، اس کے رسول ﷺ کی اطاعت، اور آخرت کی فکر کا نام ہے۔ آئیے ہم اپنے ایمان کو صرف الفاظ تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اپنے اعمال، اخلاق اور معاملات میں اس کا ثبوت دیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچے ایمان کی توفیق عطا فرمائے اور نفاق سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
📜 آیت 6-10 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 8
سورہ بقرہ آیت 8 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم…سورہ آیت 8/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 6–10. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








