طہ · 62/135
ترجمہ تلفظ — طہ
فَتَنَازَعُوا أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ وَأَسَرُّوا النَّجْوَىٰ ۝٦٢
Fatanaaza`ooo amrahum bainahum wa asarrun najwaa
📖 اردو ترجمہ
تو وہ باہم اپنے معاملے میں جھگڑانے اور چپکے چپکے سرگوشی کرنے لگے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • تَنَازَعُوا: آپس میں جھگڑا کیا، اختلاف کیا، ایک دوسرے سے بحث کی۔
  • أَمْرَهُم: اپنے معاملے کو، اپنے کام کو۔
  • أَسَرُّوا: چھپایا، پوشیدہ رکھا۔
  • النَّجْوَى: سرگوشی، خفیہ مشورہ، کانا پھوسی۔

تفسیر آیت:

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ساحروں سے کہا: *"تم جو پھینکنے والے ہو، پھینکو"*، تو ساحروں نے موسیٰ علیہ السلام کی بات سنی اور ان کے کلام اور ان کی کیفیت سے وہ متاثر ہوئے، لیکن ساتھ ہی ان کے دلوں میں خوف اور حیرت بھی پیدا ہوئی۔ اس موقع پر ان کے درمیان اختلاف اور کاناپھوسی شروع ہو گئی۔ وہ آپس میں جھگڑنے لگے کہ موسیٰ کا معاملہ کیا ہے؟ کیا وہ واقعی ساحر ہے جیسا فرعون نے کہا تھا، یا پھر وہ کوئی اور ہی عظیم شان والا نبی ہے؟ انہوں نے اپنے اس معاملے کو آپس میں چھپ کر سرگوشیوں میں طے کیا تاکہ فرعون کو ان کی کمزوری اور شک کا پتہ نہ چلے۔

ان کی یہ سرگوشی دراصل ان کے دلوں میں موجود خوف اور شک کی علامت تھی۔ وہ ایک طرف موسیٰ علیہ السلام کے کلام کی صداقت سے متاثر ہو رہے تھے، اور دوسری طرف فرعون کے غرور اور اس کے وعدوں کے سامنے اپنی حیثیت کا خیال کر رہے تھے۔ انہوں نے ایک دوسرے سے مشورہ کیا کہ اگر موسیٰ ساحر ہے تو ہم اس پر غالب آ سکتے ہیں، لیکن اگر وہ نبی ہے اور اس کے پاس اللہ کی طرف سے معجزہ ہے، تو پھر ہمارا کیا بنے گا؟ یہی وہ کیفیت تھی جس نے انہیں سرگوشیوں پر مجبور کیا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ حق کے سامنے جب باطل کھڑا ہوتا ہے تو باطل کے ماننے والوں کے دلوں میں خوف، شک اور بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ چاہے جتنے بھی طاقتور ہوں، جب انہیں حق کی صداقت کا احساس ہوتا ہے تو ان کے قدم ڈگمگانے لگتے ہیں۔ یہ اللہ کی سنت ہے کہ حق ہمیشہ غالب آتا ہے، چاہے باطل والے کتنی ہی تدبیریں کریں۔ ساحروں نے چھپ کر مشورہ کیا، لیکن اللہ کا فیصلہ ان کے خلاف تھا، کیونکہ حق کو کبھی شکست نہیں ہوتی۔

ہمیں بھی چاہیے کہ حق پر مضبوطی سے قائم رہیں، چاہے مخالفین کتنے ہی منصوبے بنائیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ جیسے ساحر آخر کار حق کو پہچان کر ایمان لے آئے، ہمیں بھی چاہیے کہ ہم حق کو پہچانیں اور اس پر ثابت قدم رہیں، کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ حق ہی غالب آئے گا۔



📜 آیت 60-64 — طہ

60فَتَوَلَّىٰ فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَيْدَهُ ثُمَّ أَتَىٰ
تو فرعون لوٹ گیا اور اپنے سامان جمع کرکے پھر آیا
61قَالَ لَهُم مُّوسَىٰ وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوا عَلَى اللَّهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُم بِعَذَابٍ ۖ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَىٰ
موسیٰ نے ان (جادوگروں) سے کہا کہ ہائے تمہاری کمبختی۔ خدا پر جھوٹ افتراء نہ کرو کہ وہ تمہیں عذاب سے فنا کردے گا اور جس نے افتراء کیا وہ نامراد رہا
62فَتَنَازَعُوا أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ وَأَسَرُّوا النَّجْوَىٰ
تو وہ باہم اپنے معاملے میں جھگڑانے اور چپکے چپکے سرگوشی کرنے لگے
63قَالُوا إِنْ هَٰذَانِ لَسَاحِرَانِ يُرِيدَانِ أَن يُخْرِجَاكُم مِّنْ أَرْضِكُم بِسِحْرِهِمَا وَيَذْهَبَا بِطَرِيقَتِكُمُ الْمُثْلَىٰ
کہنے لگے یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو (کے زور) سے تم کو تمہارے ملک سے نکل دیں اور تمہارے شائستہ مذہب کو نابود کردیں
64فَأَجْمِعُوا كَيْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوا صَفًّا ۚ وَقَدْ أَفْلَحَ الْيَوْمَ مَنِ اسْتَعْلَىٰ
تو تم (جادو کا) سامان اکھٹا کرلو اور پھر قطار باندھ کر آؤ۔ آج جو غالب رہا وہی کامیاب ہوا
طہقرآن فہرست
135آیت
مکیRevelation
62آیت

ترجمہ — طہ 62

سورہ طہ آیت 62 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو وہ باہم اپنے معاملے میں جھگڑانے اور چپکے چپکے…

سورہ آیت 62/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 60–64. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں