حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب کی بارگاہ میں عرض کیا کہ اے میرے رب! یہ لوگ (بنی اسرائیل) میرے پیچھے ہی ہیں، وہ بالکل قریب ہیں اور عنقریب میرے پیچھے آ پہنچیں گے۔ میں نے ان سے صرف چند قدم کی سبقت کی ہے، کوئی معمولی سی پیش قدمی کی ہے۔ اور میں نے تیری طرف جلدی اس لیے کی ہے کہ تو مجھ سے راضی ہو جائے۔
یہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقصد یہ تھا کہ میں نے تیرے حکم کی تعمیل میں جلدی کی، تیری رضا کے حصول کے لیے دوڑ لگائی، اور اپنی قوم کو پیچھے چھوڑ کر تیری بارگاہ میں حاضر ہوا۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ بندہ جب اپنے رب کی رضا کے لیے جلدی کرتا ہے تو اللہ اس سے راضی ہوتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک عظیم سبق ملتا ہے کہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے جلدی کرنی چاہیے۔ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو پیچھے چھوڑ کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونے میں جلدی کی، ہمیں بھی نیکیوں میں جلدی کرنی چاہیے۔ اللہ کی رضا ایسی چیز ہے جو ہر مسلمان کا مقصدِ حیات ہونی چاہیے۔ جب ہم اللہ کی رضا کے لیے کام کریں گے، تو اللہ ہم سے راضی ہو گا اور ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرمائے گا۔ یاد رکھیں، اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے دوڑ لگانا سب سے بہترین کام ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں جنت کی طرف لے جاتا ہے۔
اور موسیٰ غصّے اور غم کی حالت میں اپنی قوم کے پاس واپس آئے (اور) کہنے لگے کہ اے قوم کیا تمہارے پروردگار نے تم سے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟ کیا (میری جدائی کی) مدت تمہیں دراز (معلوم) ہوئی یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے غضب نازل ہو۔ اور (اس لئے) تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا (اس کے) خلاف کیا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔