انبیاء · 4/112
ترجمہ تلفظ — انبیاء
قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ۝٤
Qaala Rabbee ya`lamul qawla fis samaaa`i wal ardi wa Huwas Samee`ul Aleem
📖 اردو ترجمہ
(پیغمبر نے) کہا کہ جو بات آسمان اور زمین میں (کہی جاتی) ہے میرا پروردگار اسے جانتا ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • یَعْلَمُ الْقَوْلَ: ہر بات کو جانتا ہے، خواہ وہ آہستہ ہو یا بلند، پوشیدہ ہو یا ظاہر۔
  • السَّمِیعُ: سب کچھ سننے والا، جس کی سماعت سے کوئی آواز پوشیدہ نہیں۔
  • الْعَلِیمُ: ہر چیز کا علم رکھنے والا، جس کے علم سے کوئی ذرہ بھی باہر نہیں۔

تفسیر:

اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی عظمت اور علمِ کامل کا ذکر فرمایا ہے۔ جب آپ کو چیلنج کیا گیا یا آپ پر الزام لگایا گیا تو آپ نے تمام معاملات کو اللہ کی طرف لوٹاتے ہوئے فرمایا: "میرا رب ہر قول کو جانتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں کہا جاتا ہے۔" یعنی اللہ تعالیٰ کو ہر وہ بات معلوم ہے جو کوئی بھی شخص کہتا ہے، چاہے وہ آسمان کی بلندیوں میں ہو یا زمین کی گہرائیوں میں، چاہے وہ زبان سے نکالی جائے یا دل میں چھپائی جائے۔

اللہ تعالیٰ سمیع ہے یعنی وہ ہر آواز سنتا ہے، چاہے وہ سرگوشی ہو یا پکار، چاہے وہ نیکی کی دعوت ہو یا برائی کی سازش۔ اور وہ علیم ہے یعنی اسے ہر عمل، ہر نیت اور ہر حرکت کا مکمل علم ہے۔ یہ فرمانِ الٰہی درحقیقت ان لوگوں کے لیے ایک سخت تنبیہ ہے جو خاموشی سے برائی کی منصوبہ بندی کرتے ہیں یا دل میں کفر و عناد چھپائے رکھتے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کے رازوں سے بھی واقف ہے اور وہ ہر قول و فعل کا حساب لینے والا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہماری زندگی کا کوئی بھی پہلو اللہ کی نظر سے پوشیدہ نہیں ہے۔ جب ہمیں یہ یقین ہو کہ اللہ ہر بات سنتا اور جانتا ہے، تو ہم اپنی زبان کو غلط باتوں سے بچائیں گے، اپنے دل کو برے خیالات سے پاک رکھیں گے، اور اپنے اعمال کو نیک بنانے کی کوشش کریں گے۔ یہ علم ہمارے لیے اللہ کی محبت اور خشیت کا ذریعہ بنتا ہے۔ جب ہم کسی مشکل میں ہوں تو ہمیں چاہیے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح اپنے معاملات اللہ کے سپرد کر دیں، کیونکہ وہی سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے، اور وہی ہمیں ہر مصیبت سے نجات دینے پر قادر ہے۔ یہ آیت ہمیں اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ کرنے کی دعوت دیتی ہے، کیونکہ وہ ہر حال میں ہمارے ساتھ ہے، ہماری ہر بات سنتا ہے اور ہر عمل دیکھتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 2-6 — انبیاء

2مَا يَأْتِيهِم مِّن ذِكْرٍ مِّن رَّبِّهِم مُّحْدَثٍ إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ
ان کے پاس کوئی نئی نصیحت ان کے پروردگار کی طرف سے نہیں آتی مگر وہ اسے کھیلتے ہوئے سنتے ہیں
3لَاهِيَةً قُلُوبُهُمْ ۗ وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا هَلْ هَٰذَا إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ۖ أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ
ان کے دل غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ظالم لوگ (آپس میں) چپکے چپکے باتیں کرتے ہیں کہ یہ (شخص کچھ بھی) نہیں مگر تمہارے جیسا آدمی ہے۔ تو تم آنکھوں دیکھتے جادو (کی لپیٹ) میں کیوں آتے ہو
4قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
(پیغمبر نے) کہا کہ جو بات آسمان اور زمین میں (کہی جاتی) ہے میرا پروردگار اسے جانتا ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے
5بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ بَلِ افْتَرَاهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ
بلکہ (ظالم) کہنے لگے کہ (یہ قرآن) پریشان (باتیں ہیں جو) خواب (میں دیکھ لی) ہیں۔ (نہیں) بلکہ اس نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے (نہیں) بلکہ (یہ شعر ہے جو اس) شاعر (کا نتیجہٴ طبع) ہے۔ تو جیسے پہلے (پیغمبر نشانیاں دے کر) بھیجے گئے تھے (اسی طرح) یہ بھی ہمارے پاس کوئی نشانی لائے
6مَا آمَنَتْ قَبْلَهُم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا ۖ أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ
ان سے پہلے جن بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا وہ ایمان نہیں لاتی تھیں۔ تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے
انبیاءقرآن فہرست
112آیت
مکیRevelation
4آیت

ترجمہ — انبیاء 4

سورہ انبیاء آیت 4 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (پیغمبر نے) کہا کہ جو بات آسمان اور زمین میں…

سورہ آیت 4/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 2–6. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں