انبیاء · 41/112
ترجمہ تلفظ — انبیاء
وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ۝٤١
Wa laqadis tuhzi`a bi-Rusulim min qablika fahaaqa billazeena sakhiroo minhum maa kaanoo bihee yastahzi`oon
📖 اردو ترجمہ
اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ استہزاء ہوتا رہا ہے تو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو اسی (عذاب) نے جس کی ہنسی اُڑاتے تھے آگھیرا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • اسْتُهْزِئَ: مذاق اڑایا گیا، ٹھٹھا کیا گیا۔
  • فَحَاقَ: گھیر لیا، احاطہ کر لیا، نازل ہو کر انہیں گھیر لیا۔
  • سَخِرُوا: انہوں نے مذاق اڑایا، ٹھٹھا کیا۔

تفسیر:

اے محبوب نبی! آپ اس بات پر دل گرفتہ نہ ہوں کہ آپ کی قوم کے لوگ آپ کا مذاق اڑاتے ہیں اور آپ کی دعوت کو ٹھٹھے کے طور پر لیتے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے جو ہمیشہ سے جاری ہے۔ آپ سے پہلے بھی بہت سے انبیاء و رسل آئے، ان کی قوموں نے انہیں جھٹلایا، ان کا مذاق اڑایا، ان پر ہنسی اور انہیں حقیر جانا۔ لیکن ان سب کا انجام کیا ہوا؟ جب اللہ کا عذاب آیا تو وہی لوگ اس کے لپیٹ میں آگئے جنہوں نے مذاق اڑایا تھا۔ وہ عذاب جسے وہ محض مذاق سمجھتے تھے، اچانک ان پر نازل ہو کر انہیں گھیر لیا اور ان کا کوئی بھی دفاع کام نہ آیا۔

یہ اللہ کا قانون ہے کہ استہزاء کرنے والوں کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو حق کا مذاق اڑاتے ہیں، اللہ انہیں مہلت دیتا ہے لیکن پھر انہیں ایسی پکڑ پکڑتا ہے جس سے وہ بچ نہیں سکتے۔ آج جو لوگ آپ کا مذاق اڑا رہے ہیں، انہیں معلوم نہیں کہ وہ جس عذاب کا مذاق اڑا رہے ہیں، وہ کل انہیں گھیر لے گا۔

دعوتی پہلو:

پیارے مسلمان بھائیو! یہ آیت ہمیں تین بڑے اسباق سکھاتی ہے:

پہلا سبق: صبر و استقامت۔ نبی کریم ﷺ کو بھی مذاق اڑانے والوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن آپ نے صبر کیا اور اپنی دعوت پر قائم رہے۔ ہمیں بھی اپنے ایمان اور دعوت پر ثابت قدم رہنا چاہیے، چاہے لوگ ہنسیں یا مذاق اڑائیں۔

دوسرا سبق: اللہ کا انصاف۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو مہلت دیتا ہے لیکن بھولتا نہیں۔ جو لوگ حق کا مذاق اڑاتے ہیں، ان کا انجام برا ہوتا ہے۔ ہمیں کبھی بھی اپنے دین کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے اور نہ ہی حق پر چلنے والوں کا ٹھٹھا کرنا چاہیے۔

تیسرا سبق: عبرت و نصیحت۔ تاریخ کے صفحات ہمیں بتاتے ہیں کہ جو قومیں اپنے نبیوں کا مذاق اڑاتی تھیں، وہ کیسے تباہ ہوئیں۔ ہمیں ان سے سبق لینا چاہیے اور اپنے نبی ﷺ کی اطاعت اور محبت کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں استہزاء کرنے والوں میں شامل ہونے سے بچائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 39-43 — انبیاء

39لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَن ظُهُورِهِمْ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ
اے کاش کافر اس وقت کو جانیں جب وہ اپنے مونہوں پر سے (دوزخ کی) آگ کو روک نہ سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں پر سے اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا
40بَلْ تَأْتِيهِم بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ رَدَّهَا وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ
بلکہ قیامت ان پر ناگہاں آ واقع ہوگی۔ اور ان کے ہوش کھو دے گی۔ پھر نہ تو وہ اس کو ہٹا سکیں گے اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی
41وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوا مِنْهُم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ استہزاء ہوتا رہا ہے تو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو اسی (عذاب) نے جس کی ہنسی اُڑاتے تھے آگھیرا
42قُلْ مَن يَكْلَؤُكُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الرَّحْمَٰنِ ۗ بَلْ هُمْ عَن ذِكْرِ رَبِّهِم مُّعْرِضُونَ
کہو کہ رات اور دن میں خدا سے تمہاری کون حفاظت کرسکتا ہے؟ بات یہ ہے کہ اپنے پروردگار کی یاد سے منہ پھیرے ہوئے ہیں
43أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُم مِّن دُونِنَا ۚ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنفُسِهِمْ وَلَا هُم مِّنَّا يُصْحَبُونَ
کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو (مصائب سے) بچاسکیں۔ وہ آپ اپنی مدد تو کر ہی نہیں سکتے اور نہ ہم سے پناہ ہی دیئے جائیں گے
انبیاءقرآن فہرست
112آیت
مکیRevelation
41آیت

ترجمہ — انبیاء 41

سورہ انبیاء آیت 41 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ استہزاء ہوتا…

سورہ آیت 41/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 39–43. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں