ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- رُشْدَهُ: ہدایت، سمجھ بوجھ، یا نبوت اور دلیلِ حق۔
- مِن قَبْلُ: اس سے پہلے، یعنی موسیٰ اور ہارون علیہما السلام سے پہلے۔
- عَالِمِینَ: جاننے والے، یعنی ہم اسے خوب جانتے تھے۔
تفسیرِ آیہ:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم نے انہیں ان کی ہدایت اور رشد و صواب سے پہلے ہی نواز دیا تھا، یعنی انہیں وہ فہم و بصیرت اور دلیلِ حق عطا کی تھی جو ان کے قوم کے سامنے پیش کرنے کے لیے ضروری تھی۔ یہ عطیہ موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کی نبوت سے بھی پہلے تھا، کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام زمانۂ قدیم کے پیغمبر ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم انہیں خوب جانتے تھے کہ وہ اس ہدایت اور نبوت کے اہل ہیں، ان کے دل میں توحید کا نور پہلے سے موجود تھا، اور وہ شرک و بت پرستی سے بیزار تھے۔ یہ علمِ الٰہی تھا جس کی بنا پر اللہ نے انہیں یہ عظیم مرتبہ عطا فرمایا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت عطا فرماتا ہے، اور وہ اپنے بندوں کے دلوں کے حال سے خوب واقف ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے کہ حق کی تلاش اور توحید کا راستہ اختیار کرنے والوں کو اللہ کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ آئیے ہم بھی اپنے دلوں کو شرک اور غفلت سے پاک کریں، اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں بھی رشد و ہدایت عطا فرمائے، جیسا کہ اس نے اپنے خلیل کو عطا فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کو کبھی محروم نہیں رکھتا، بس ضرورت ہے سچے دل سے طلب کرنے کی۔
📜 آیت 49-53 — انبیاء
ترجمہ — انبیاء 51
سورہ انبیاء آیت 51 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم نے ابراہیمؑ کو پہلے ہی سے ہدایت دی…سورہ آیت 51/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 49–53. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








