انبیاء · 52/112
ترجمہ تلفظ — انبیاء
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ ۝٥٢
Iz qaala li abeehi wa qawmihee maa haazihit tamaaseelul lateee antum lahee `aakifoon
📖 اردو ترجمہ
جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا یہ کیا مورتیں ہیں جن (کی پرستش) پر تم معتکف (وقائم) ہو؟
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • تماثیل: وہ مجسمے، مورتیاں یا بت جو مختلف شکلوں میں تراشے گئے ہوں۔
  • عاکفون: کسی چیز پر مداومت کرنے والے، اس سے وابستہ رہنے والے، اور اس کی عبادت پر جمے رہنے والے۔

تفسیر آیت:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس واقعہ کا ذکر فرما رہے ہیں جب انہوں نے اپنے باپ آزر اور اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے ان کے بتوں کے بارے میں استفہامیہ انداز میں سوال کیا۔ یہ سوال محض تجسس نہ تھا، بلکہ ان کے عقیدے کی بے بنیادی کو ظاہر کرنے کے لیے تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے کہا: "یہ کیسی مورتیاں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو اور جن پر تم جمے ہوئے ہو؟"

یہ سوال اس لیے تھا کہ ان بتوں کو انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے تراشا تھا، پھر انہیں دیواروں پر سجا کر ان کے آگے جھکنے لگے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقصد انہیں سوچنے پر مجبور کرنا تھا کہ جس چیز کو تم نے خود بنایا ہے، وہ تمہیں کوئی فائدہ یا نقصان کیسے پہنچا سکتی ہے؟ وہ نہ سنتی ہے، نہ دیکھتی ہے، نہ بولتی ہے، نہ کسی کی حاجت روائی کر سکتی ہے۔

یہ سوال دراصل ان کی عقلوں کو جھنجھوڑنے کے لیے تھا، تاکہ وہ اپنے اس باطل عقیدے سے باز آئیں اور صرف اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کریں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نہایت نرمی اور حکمت کے ساتھ انہیں سمجھانے کی کوشش کی، کیونکہ دعوت الی اللہ کا انداز نرمی، محبت اور حکمت پر مبنی ہونا چاہیے، نہ کہ سختی اور جھڑکی پر۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے گھر والوں، والدین اور رشتہ داروں کو بھی نرمی اور محبت کے ساتھ حق کی دعوت دینی چاہیے، چاہے وہ کسی بھی غلط عقیدے یا عمل پر ہوں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کو جو مشرک تھا، نہایت ادب اور نرمی سے سمجھایا، یہاں تک کہ انہوں نے "یا ابت" (اے میرے باپ) کہہ کر خطاب کیا۔ ہمیں بھی اپنے معاشرے میں پھیلی شرک اور بدعت کی آلودگیوں کو ختم کرنے کے لیے حکمت اور دانائی سے کام لینا چاہیے، اور لوگوں کو توحید کی طرف بلانا چاہیے، کیونکہ توحید ہی وہ بنیادی پیغام ہے جس کے لیے تمام انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے۔ آج بھی بہت سے لوگ قبروں، مزاروں اور پیروں کی تعظیم میں حد سے تجاوز کرتے ہوئے انہیں اللہ کے سوا پکارتے ہیں، جو کہ شرک ہے۔ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت سے سبق لے کر اپنے معاشرے کو اس شرک سے پاک کرنا ہوگا، اور لوگوں کو سمجھانا ہوگا کہ صرف اللہ ہی عبادت کے لائق ہے، اور ہر قسم کی حاجت صرف اسی سے مانگی جائے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 50-54 — انبیاء

50وَهَٰذَا ذِكْرٌ مُّبَارَكٌ أَنزَلْنَاهُ ۚ أَفَأَنتُمْ لَهُ مُنكِرُونَ
یہ مبارک نصیحت ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے تو کیا تم اس سے انکار کرتے ہو؟
51۞ وَلَقَدْ آتَيْنَا إِبْرَاهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَالِمِينَ
اور ہم نے ابراہیمؑ کو پہلے ہی سے ہدایت دی تھی اور ہم ان کے حال سے واقف تھے
52إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ
جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا یہ کیا مورتیں ہیں جن (کی پرستش) پر تم معتکف (وقائم) ہو؟
53قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ
وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی پرستش کرتے دیکھا ہے
54قَالَ لَقَدْ كُنتُمْ أَنتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
(ابراہیم نے) کہا کہ تم بھی (گمراہ ہو) اور تمہارے باپ دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے رہے
انبیاءقرآن فہرست
112آیت
مکیRevelation
52آیت

ترجمہ — انبیاء 52

سورہ انبیاء آیت 52 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں…

سورہ آیت 52/112 — انبیاء الأنبياء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انبیاء سنیں, انبیاء ترجمہ, انبیاء mp3, انبیاء pdf. آیت 50–54. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں