ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- اَفَضْتُمْ: تم نے اس میں زبان درازی کی، پھیلایا، داخل ہوئے۔
- لَمَسَّكُمْ: تمہیں چھو لیتا، پہنچ جاتا۔
تفسیر:
اے ایمان والو! اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی، جو دنیا اور آخرت دونوں میں تمہارے شاملِ حال ہے، تو یقیناً اس افترا پردازی اور بہتان کی وجہ سے جو تم نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں پھیلایا تھا، تم پر ایک بہت بڑا اور دردناک عذاب نازل ہو جاتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے تمہیں اس عذاب سے بچا لیا، کیونکہ اس نے تم پر دنیا میں عذاب جلدی نازل نہیں کیا اور آخرت میں بھی توبہ کرنے والوں کے لیے مغفرت کا دروازہ کھلا رکھا۔
اللہ تعالیٰ کا یہ فضل و رحمت ہے کہ وہ اپنے بندوں پر جلدی عذاب نہیں بھیجتا، بلکہ انہیں مہلت دیتا ہے تاکہ وہ اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں، توبہ کریں اور اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔ اگر وہ اپنی گرفت میں لے لیتا تو کوئی بھی اس کے عذاب سے بچ نہ سکتا۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحمت کس قدر وسیع ہے۔ وہ اپنے بندوں کی غلطیوں پر پردہ ڈالتا ہے، انہیں موقع دیتا ہے اور توبہ قبول فرماتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زبانوں کی حفاظت کریں، کسی کے بارے میں برا گمان نہ کریں اور اگر کبھی کوئی غلطی ہو جائے تو فوراً توبہ کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور انہیں معاف فرما دیتا ہے۔
یاد رکھیں! اللہ کا فضل ہی ہے جو ہمیں ہر برائی سے بچاتا ہے، اور اس کی رحمت ہی ہے جو ہماری کوتاہیوں پر پردہ ڈالتی ہے۔ لہٰذا ہمیں ہر وقت اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیے اور اس کی نعمتوں کو پہچاننا چاہیے، کیونکہ یہی وہ فضل ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی عطا کرتا ہے۔
📜 آیت 12-16 — نور
ترجمہ — نور 14
سورہ نور آیت 14 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اگر دنیا اور آخرت میں تم پر خدا کا…سورہ آیت 14/64 — نور النور (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نور سنیں, نور ترجمہ, نور mp3, نور pdf. آیت 12–16. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








