iz talaqqawnahoo bi alsinatikum wa taqooloona bi afwaahikum maa laisa lakum bihee `ilmunw wa tahsaboo nahoo haiyinanw wa huwa `indl laahi `azeem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جب تم اپنی زبانوں سے اس کا ایک دوسرے سے ذکر کرتے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہتے تھے جس کا تم کو کچھ علم نہ تھا اور تم اسے ایک ہلکی بات سمجھتے تھے اور خدا کے نزدیک وہ بڑی بھاری بات تھی
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آنگاه كه آن سخن را از دهان يكديگر مىگرفتيد و چيزى بر زبان مىرانديد كه در باره آن هيچ نمىدانستيد و مىپنداشتيد كه كارى خرد است، و حال آنكه در نزد خدا كارى بزرگ بود.
جب تم اپنی زبانوں سے اس کا ایک دوسرے سے ذکر کرتے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہتے تھے جس کا تم کو کچھ علم نہ تھا اور تم اسے ایک ہلکی بات سمجھتے تھے اور خدا کے نزدیک وہ بڑی بھاری بات تھی
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
تَلَقَّوْنَهُ: تم اسے ایک دوسرے سے وصول کر رہے تھے، یعنی زبان سے زبان تک منتقل کر رہے تھے۔
تَحْسَبُونَهُ: تم اسے خیال کر رہے تھے۔
هَیِّنًا: آسان اور معمولی۔
عَظِيمٌ: بہت بڑا (گناہ)۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو اس سنگین غلطی پر متنبہ فرما رہے ہیں جو انہوں نے واقعۂ افک (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت) کے موقع پر کی تھی۔ جب وہ خبر کو ایک دوسرے سے لے کر اپنی زبانوں پر جاری کر رہے تھے، اور اپنے منہ سے ایسی باتیں کہہ رہے تھے جن کا انہیں کوئی علم نہ تھا۔ یہ نہ صرف جھوٹ تھا بلکہ علم کے بغیر بولنا بھی تھا، اور وہ اسے معمولی سمجھ رہے تھے، حالانکہ اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا گناہ تھا۔
اس آیت میں دو بڑی خرابیاں بیان ہوئی ہیں: ایک یہ کہ باطل بات کو پھیلانا، دوسرے یہ کہ بغیر علم کے بولنا۔ یہ دونوں چیزیں اللہ کے ہاں سخت ناپسندیدہ ہیں۔ مسلمان کو چاہیے کہ جو بات علم پر مبنی نہ ہو اسے زبان پر نہ لائے، اور کسی کے بارے میں بری رائے قائم کرنے سے پہلے تحقیق کرے۔ بہت سے لوگ آج بھی بغیر تصدیق کے افواہیں پھیلا دیتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں، حالانکہ اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا وبال ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ زبان اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے، لیکن یہی زبان ہمارے لیے تباہی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زبان کی حفاظت کرے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ خیر کی بات کرے یا خاموش رہے۔" (بخاری و مسلم)۔ اگر ہم کسی کے بارے میں کوئی بات سنیں تو اس کی تحقیق کریں، اور اگر وہ غلط ہو تو اسے پھیلانے سے گریز کریں۔ یاد رکھیں، ایک معمولی سی بات جو ہم ہنس کر کہہ دیتے ہیں، اللہ کے نزدیک بہت بڑی ہو سکتی ہے۔ آئیے ہم اپنی زبانوں کو جھوٹ، غیبت اور افواہوں سے پاک رکھیں، اور اپنے دلوں کو پاکیزگی اور تقویٰ سے مزین کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
جب تم اپنی زبانوں سے اس کا ایک دوسرے سے ذکر کرتے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہتے تھے جس کا تم کو کچھ علم نہ تھا اور تم اسے ایک ہلکی بات سمجھتے تھے اور خدا کے نزدیک وہ بڑی بھاری بات تھی
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔