ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا: ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے، یعنی آخرت اور حشر کے دن پر ایمان نہیں رکھتے۔
- لَوْلَا: کیوں نہیں؟ / ہلا (تحضيض کے لیے)۔
- أُنزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَائِكَةُ: ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے؟
- أَوْ نَرَىٰ رَبَّنَا: یا ہم اپنے رب کو آنکھوں سے دیکھتے۔
- اسْتَكْبَرُوا: انہوں نے تکبر کیا، اپنے آپ کو بڑا سمجھا۔
- عَتَوْا عُتُوًّا كَبِيرًا: حد سے بڑھ کر سرکشی کی، انتہائی درجے کی طغیانی کا ارتکاب کیا۔
تفسیر:
یہ آیت ان کافروں اور منکروں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو قیامت، حساب و کتاب اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری پر یقین نہیں رکھتے۔ انہوں نے اپنے رب کی ملاقات کی کوئی امید نہیں رکھی، نہ اس کے عذاب کا کوئی خوف دل میں پایا۔ ان کی جہالت اور سرکشی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے گستاخانہ انداز میں کہا: "ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے جو گواہی دیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سچے ہیں؟ یا ہم اپنے رب کو آنکھوں سے دیکھ لیتے تاکہ وہ خود ہمیں بتاتا کہ یہ پیغمبر برحق ہے؟"
یہ دراصل ان کا بہانہ تھا، کیونکہ وہ حق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اگر فرشتے بھی ان کے پاس آ جاتے اور وہ رب کو بھی دیکھ لیتے، تب بھی وہ ایمان نہ لاتے، جیسا کہ دوسری آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیتے اور مردے ان سے کلام کرتے، تب بھی وہ ایمان نہ لاتے۔ ان کا مطالبہ محض ضد اور تکبر تھا، نہ کہ سچائی کی تلاش۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے اس رویے پر سخت الفاظ میں فرمایا: "لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي أَنفُسِهِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيرًا" یعنی انہوں نے اپنے دلوں میں بڑا تکبر پیدا کر لیا اور انتہائی درجے کی سرکشی اور طغیانی کا مظاہرہ کیا۔ یہ تکبر ان کے ایمان کی راہ میں رکاوٹ بنا، اور انہوں نے اللہ کے سامنے اس قدر گستاخی کی کہ اس کی رؤیت کا مطالبہ کرنے لگے، حالانکہ دنیا میں کسی بشر کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اللہ کو دیکھ سکے۔ یہ ان کی جہالت اور حد سے تجاوز کی انتہا تھی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ انسان کو اپنے رب کی بارگاہ میں عاجزی اور انکساری اختیار کرنی چاہیے، نہ کہ تکبر اور سرکشی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بارہا یہ واضح کیا ہے کہ ایمان کا راستہ عقل اور دل کی صفائی سے گزرتا ہے، نہ کہ معجزات اور غیر معمولی چیزوں کے مطالبے سے۔ جو لوگ حق کو قبول کرنے کے لیے بہانے تلاش کرتے ہیں، ان کے دل سخت ہو جاتے ہیں اور وہ ہدایت سے محروم رہتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رب کی طرف رجوع کریں، اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کریں، اور آخرت کے دن پر پختہ یقین رکھیں، کیونکہ یہی نجات کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، اس نے ہمیں عقل دی، رسول بھیجے، اور کتابیں اتاریں تاکہ ہم سیدھے راستے پر چلیں۔ ہمیں ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اپنے رب کی رحمت کے امیدوار بننا چاہیے، نہ کہ اس کی بارگاہ میں گستاخی کرنے والے۔
📜 آیت 19-23 — فرقان
ترجمہ — فرقان 21
سورہ فرقان آیت 21 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے۔…سورہ آیت 21/77 — فرقان الفرقان (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: فرقان سنیں, فرقان ترجمہ, فرقان mp3, فرقان pdf. آیت 19–23. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








