ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَصْحَابُ الْأَيْكَةِ: وہ لوگ جو گھنے درختوں والی سرسبز وادی میں رہتے تھے۔
- الْأَيْكَةِ: گھنا جنگل، جہاں درخت ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں۔
- الْمُرْسَلِينَ: اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبر۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک اور قوم کا ذکر فرمایا ہے جس نے اپنے نبی کو جھٹلایا۔ یہ لوگ "اصحاب الایکہ" کہلاتے تھے، یعنی وہ قوم جو گھنے درختوں اور سرسبز و شاداب زمین پر آباد تھی۔ انہوں نے حضرت شعیب علیہ السلام کو جھٹلایا، اور چونکہ انہوں نے اپنے نبی کو نہ مانا، تو گویا انہوں نے تمام رسولوں کو جھٹلایا، کیونکہ تمام انبیاء کا پیغام ایک ہی تھا — توحید اور اللہ کی عبادت۔
یہ قوم نعمتوں میں ڈوبی ہوئی تھی، درختوں کی گھنی چھاؤں، بہتے چشمے اور سرسبز کھیت انہیں اللہ کی رحمت کی نشانیاں یاد دلاتے تھے، مگر انہوں نے ان نعمتوں کو دیکھ کر شکر ادا کرنے کے بجائے اپنے نبی کو جھٹلایا اور کفر پر قائم رہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ اللہ کی نعمتیں ہمیشہ کے لیے نہیں رہتیں، اگر انسان ان نعمتوں کو دیکھ کر اللہ کا شکر ادا نہ کرے اور اپنے رسولوں کی تعلیمات کو رد کر دے، تو وہ نعمتیں عذاب میں بدل سکتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہر نعمت پر اللہ کا شکر ادا کریں اور اپنے نبی ﷺ کی تعلیمات پر عمل کریں، کیونکہ نبیوں کی تکذیب کا انجام ہمیشہ تباہی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین پر ثابت قدم رکھے اور ہمیں ان لوگوں کے انجام سے عبرت حاصل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 174-178 — شعراء
ترجمہ — شعراء 176
سورہ شعراء آیت 176 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور بن کے رہنے والوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایاسورہ آیت 176/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 174–178. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








