ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- حَاشِرِينَ: جمع کرنے والے، اکٹھا کرنے والے۔
تفسیر آیت:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے روانہ ہوئے اور فرعون کو یہ خبر پہنچی کہ بنی اسرائیل راتوں رات نکل گئے ہیں، تو اس پر فرعون کو شدید غصہ آیا اور اسے اپنی سلطنت کے زوال کا خوف لاحق ہوا۔ چنانچہ اس نے فوراً اپنے دارالحکومت اور دیگر بڑے شہروں میں اپنے کارندوں اور سپاہیوں کو روانہ کیا تاکہ وہ لوگوں کو جمع کریں اور ایک بڑی فوج تیار کر کے بنی اسرائیل کا پیچھا کریں۔
یہ فرعون کی سرکشی اور ضد کا منظر ہے کہ وہ اللہ کے حکم کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی طاقت اور لشکر پر بھروسہ کرتا رہا۔ وہ سمجھتا تھا کہ اپنی فوجوں کی کثرت سے وہ اللہ کے نبی اور اس کی قوم کو راستے سے ہٹا سکتا ہے، حالانکہ اللہ کی قدرت کسی بھی لشکر اور طاقت سے بالاتر ہے۔
اس آیت میں ہمارے لیے عبرت ہے کہ انسان جب تک اپنی مادی طاقت اور وسائل پر بھروسہ رکھتا ہے اور اللہ کی طرف رجوع نہیں کرتا، وہ اسی طرح سرکشی کرتا رہتا ہے۔ لیکن جب اللہ کا فیصلہ آتا ہے تو ساری طاقتیں بےکار ہو جاتی ہیں۔ فرعون نے اپنے لشکر جمع کیے، لیکن اللہ نے اسے اور اس کے لشکر کو سمندر میں غرق کر دیا۔
یاد رکھیے! اللہ کی مدد انہیں ملتی ہے جو اس پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس کی راہ میں صبر کرتے ہیں۔ بنی اسرائیل کے پاس کوئی فوج نہیں تھی، لیکن ان کے ساتھ اللہ کا وعدہ تھا، اور فرعون کے پاس بے شمار فوجیں تھیں، لیکن اس کے ساتھ اللہ کی ناراضگی تھی۔ پس کامیابی کا دارومدار فوجوں کی کثرت پر نہیں، بلکہ اللہ کی رضا اور اس کے دین کی نصرت پر ہے۔
📜 آیت 51-55 — شعراء
ترجمہ — شعراء 53
سورہ شعراء آیت 53 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو فرعون نے شہروں میں نقیب راونہ کئےسورہ آیت 53/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 51–55. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








