ترجمہ — Tafsir
وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَاذِرُونَ
معانی الفاظ:
- لَجَمِيعٌ: ہم سب مل کر، پوری جماعت
- حَاذِرُونَ: ہوشیار، چوکنا، خبردار، اپنے دشمن سے بچنے کے لیے تیار
تفسیر:
یہ فرعون کا اپنے درباریوں اور اہلِ مصر سے خطاب ہے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل گئے، تو فرعون نے اپنی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "ہم سب مل کر ایک بڑی جماعت ہیں، اور ہم اپنے دشمنوں سے بچنے کے لیے پوری طرح چوکنا اور ہوشیار ہیں۔" اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ بنی اسرائیل کا تعاقب کرنے اور انہیں واپس لانے کے لیے مکمل تیاری کر رہا ہے۔
فرعون نے اپنے اس اعلان سے اپنی قوم کو یہ یقین دلانا چاہا کہ بنی اسرائیل کی فرار ہونے کی کوشش کوئی اہمیت نہیں رکھتی، کیونکہ ہماری فوج اور طاقت ان سے کہیں زیادہ ہے، اور ہم ان کا پیچھا کرنے کے لیے ہر لمحہ مستعد ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ فرعون کی یہ بڑائی اور گھمنڈ اس کے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوئی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہر چیز پر غالب ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دنیاوی طاقت، فوج، سازوسامان اور بڑی جماعت کا ہونا کسی کے کام نہیں آتا جب اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آجاتا ہے۔ فرعون کے پاس بے پناہ طاقت تھی، لیکن اس کی یہ طاقت اللہ کے حکم کے سامنے بے بس ہوگئی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی طاقت اور وسائل پر نہیں، بلکہ اللہ کی مدد اور نصرت پر بھروسہ کریں۔ جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے، اللہ اس کے لیے کافی ہے۔ فرعون جیسے ظالموں کا انجام عبرت ہے کہ ان کی ساری تیاریاں اور ہوشیاریاں انہیں اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکیں۔
📜 آیت 54-58 — شعراء
ترجمہ — شعراء 56
سورہ شعراء آیت 56 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم سب باسازو سامان ہیںسورہ آیت 56/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 54–58. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








