فَارِغًا: خالی، یعنی ہر چیز سے خالی مگر موسیٰ علیہ السلام کے غم اور فکر سے۔
لَتُبْدِی بِہِ: اس کے بارے میں ظاہر کر دیتی، یعنی موسیٰ کو اپنا بیٹا بتا دیتی۔
رَبَطْنَا عَلَى قَلْبِهَا: ہم نے اس کے دل کو مضبوط کیا، صبر اور ثبات دیا۔
تفسیر:
جب موسیٰ علیہ السلام کے بھائی نے انہیں دریا سے نکال کر فرعون کے محل میں پہنچایا، تو ان کی والدہ کا حال یہ تھا کہ ان کا دل ہر چیز سے خالی ہو گیا تھا۔ نہ کھانے کا ہوش، نہ پینے کا، نہ دنیا کی کوئی فکر — صرف اور صرف موسیٰ کا غم اور ان کی یاد ان کے دل پر چھائی ہوئی تھی۔ وہ اس قدر بے چین تھیں کہ قریب تھا کہ وہ اپنا راز کھول دیتیں اور کہہ دیتیں کہ یہ بچہ میرا بیٹا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو صبر اور ثبات عطا فرمایا، تاکہ وہ اللہ کے وعدے پر یقین رکھنے والی مؤمنہ بنی رہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں اس مصیبت میں صبر عطا کیا اور ان کے دل کو مضبوط کیا، تاکہ وہ اس آزمائش میں کامیاب ہوں۔ یہ اللہ کا خاص فضل تھا جو ان پر ہوا، کیونکہ اللہ اپنے بندوں کو جب چاہتا ہے، صبر اور استقامت عطا فرماتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ جب اللہ پر بھروسہ ہو اور اس کے وعدے پر یقین ہو، تو اللہ اپنے بندے کے دل کو مضبوط کر دیتا ہے۔ ماں کا دل اولاد کی محبت سے بھرا ہوتا ہے، لیکن جب اللہ کی رضا اور اس کے وعدے پر بھروسہ ہو، تو اللہ اسے صبر عطا کرتا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہر مشکل میں اللہ پر بھروسہ کریں، کیونکہ اللہ اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں، اللہ ان کے دلوں کو سکون اور مضبوطی عطا فرماتا ہے۔ یہی ایمان کی حقیقی دولت ہے جو ہر مسلمان کو حاصل کرنی چاہیے۔
تو فرعون کے لوگوں نے اس کو اُٹھا لیا اس لئے کہ (نتیجہ یہ ہونا تھا کہ) وہ اُن کا دشمن اور (ان کے لئے موجب) غم ہو۔ بیشک فرعون اور ہامان اور اُن کے لشکر چوک گئے
اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ (یہ) میری اور تمہاری (دونوں کی) آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہ کرنا۔ شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اُسے بیٹا بنالیں اور وہ انجام سے بےخبر تھے
اور ہم نے پہلے ہی سے اس پر (دائیوں) کے دودھ حرام کر دیئے تھے۔ تو موسٰی کی بہن نے کہا کہ میں تمہیں ایسے گھر والے بتاؤں کہ تمہارے لئے اس (بچے) کو پالیں اور اس کی خیر خواہی (سے پرورش) کریں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔