Mishary Rashid Alafasy
✓
Mahmoud Khalil Al-Husary
✓
Abdurrahman As-Sudais
✓
Mohamed Siddiq Al-Minshawi
✓
Abdul Basit Abdul Samad
✓
Ali Al-Hudhaify
✓
Ahmed ibn Ali al-Ajamy
✓
Abu Bakr Ash-Shaatree
✓
Muhammad Ayyoub
✓
Abdullah Basfar
✓
Abdullah Al-Juhani
✓
Maher Al Muaiqly
✓
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- وَیْلَکُمْ: یہ لفظ وعید اور ڈانٹ ڈپٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس کا اصل معنی ہلاکت کی دعا ہے، مگر یہاں زجر و تنبیہ کے لیے ہے۔
- ثَوَابُ اللہِ: اللہ کا اجر و انعام، جو آخرت میں مومنوں کو ملے گا۔
- لَا یُلَقَّاهَا: اسے نصیب نہیں ہوتا، یعنی اس کلمے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنے کی توفیق نہیں ملتی۔
- الصَّابِرُونَ: صبر کرنے والے، جو اللہ کی اطاعت پر قائم رہیں اور گناہوں سے بچیں۔
تفسیر:
جب قارون اپنی زینت و شوکت کے ساتھ نکلا تو کچھ لوگوں نے حسرت سے کہا: "کاش ہمیں بھی وہ کچھ ملتا جو قارون کو ملا ہے!" اسی موقع پر اہل علم، جو اللہ کے دین کی سمجھ رکھتے تھے اور دنیا کی حقیقت سے واقف تھے، انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "تم پر افسوس! کیا تم دنیا کے اس عارضی مال و متاع پر نظر ڈال کر اللہ کے ابدی انعام کو بھول گئے؟ اللہ کا ثواب، جو اس نے اپنے مومن اور نیک عمل کرنے والے بندوں کے لیے تیار کیا ہے، اس سے کہیں بہتر ہے جو قارون کو دیا گیا۔"
یہ علماء کرام دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی دائمی نعمتوں کو جانتے تھے، اس لیے انہوں نے لوگوں کو دنیا کی محبت سے روکا اور آخرت کی طرف راغب کیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ نصیحت اور اس پر عمل کرنے کی توفیق صرف انہیں ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں، یعنی جو اپنے نفس کو اللہ کی اطاعت پر قائم رکھیں، گناہوں سے بچیں اور دنیا کی لذتوں کو چھوڑ کر آخرت کی خاطر صبر کریں۔
یہ وہ لوگ ہیں جو آزمائشوں میں ڈٹے رہتے ہیں، اللہ کی رضا کو دنیا کی خوشیوں پر ترجیح دیتے ہیں، اور اپنے ایمان پر قائم رہتے ہوئے نیک اعمال کرتے ہیں۔ انہیں ہی وہ عظیم کامیابی نصیب ہوگی جو اللہ نے اپنے نیک بندوں کے لیے تیار کی ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ دنیا کا مال و دولت، شہرت اور عیش و آرام کبھی بھی اللہ کے ثواب کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اللہ کا انعام ابدی ہے، جبکہ دنیا کی چیزیں چند دنوں کی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی نگاہیں آخرت پر رکھیں، نیک اعمال کریں اور صبر کریں، کیونکہ صبر ہی وہ کلید ہے جو ہمیں اللہ کی رضا اور اس کے ابدی انعام تک پہنچاتی ہے۔ یاد رکھیں، جو لوگ دنیا کی چمک دمک سے متاثر ہو کر اللہ کو بھول جاتے ہیں، وہ حقیقی نقصان میں ہیں، لیکن جو صبر کرتے ہیں اور اللہ کی اطاعت پر قائم رہتے ہیں، وہی کامیاب ہیں۔
📜 آیت 78-82 — سورہ قصص
ترجمہ — قصص 80
سورہ قصص آیت 80 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے…سورہ آیت 80/88 — سورہ قصص القصص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ قصص سنیں, سورہ قصص ترجمہ, سورہ قصص mp3, سورہ قصص pdf. آیت 78–82. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Monday, September 28, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں


