Wa qaalal lazeena ootul `ilma wailakum sawaabul laahi khairul liman aamana wa `amila saalihaa; wa laa yulaq qaahaaa illas saabiroon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے کہ تم پر افسوس۔ مومنوں اور نیکوکاروں کے لئے (جو) ثواب خدا (کے ہاں تیار ہے وہ) کہیں بہتر ہے اور وہ صرف صبر کرنے والوں ہی کو ملے گا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اما دانشيافتگان گفتند: واى بر شما. براى آنها كه ايمان مىآورند و كارهاى شايسته مىكنند ثواب خدا بهتر است. و بدين ثواب جز صابران نرسند.
اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے کہ تم پر افسوس۔ مومنوں اور نیکوکاروں کے لئے (جو) ثواب خدا (کے ہاں تیار ہے وہ) کہیں بہتر ہے اور وہ صرف صبر کرنے والوں ہی کو ملے گا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
وَیْلَکُمْ: یہ لفظ وعید اور ڈانٹ ڈپٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس کا اصل معنی ہلاکت کی دعا ہے، مگر یہاں زجر و تنبیہ کے لیے ہے۔
ثَوَابُ اللہِ: اللہ کا اجر و انعام، جو آخرت میں مومنوں کو ملے گا۔
لَا یُلَقَّاهَا: اسے نصیب نہیں ہوتا، یعنی اس کلمے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنے کی توفیق نہیں ملتی۔
الصَّابِرُونَ: صبر کرنے والے، جو اللہ کی اطاعت پر قائم رہیں اور گناہوں سے بچیں۔
تفسیر:
جب قارون اپنی زینت و شوکت کے ساتھ نکلا تو کچھ لوگوں نے حسرت سے کہا: "کاش ہمیں بھی وہ کچھ ملتا جو قارون کو ملا ہے!" اسی موقع پر اہل علم، جو اللہ کے دین کی سمجھ رکھتے تھے اور دنیا کی حقیقت سے واقف تھے، انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "تم پر افسوس! کیا تم دنیا کے اس عارضی مال و متاع پر نظر ڈال کر اللہ کے ابدی انعام کو بھول گئے؟ اللہ کا ثواب، جو اس نے اپنے مومن اور نیک عمل کرنے والے بندوں کے لیے تیار کیا ہے، اس سے کہیں بہتر ہے جو قارون کو دیا گیا۔"
یہ علماء کرام دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی دائمی نعمتوں کو جانتے تھے، اس لیے انہوں نے لوگوں کو دنیا کی محبت سے روکا اور آخرت کی طرف راغب کیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ نصیحت اور اس پر عمل کرنے کی توفیق صرف انہیں ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں، یعنی جو اپنے نفس کو اللہ کی اطاعت پر قائم رکھیں، گناہوں سے بچیں اور دنیا کی لذتوں کو چھوڑ کر آخرت کی خاطر صبر کریں۔
یہ وہ لوگ ہیں جو آزمائشوں میں ڈٹے رہتے ہیں، اللہ کی رضا کو دنیا کی خوشیوں پر ترجیح دیتے ہیں، اور اپنے ایمان پر قائم رہتے ہوئے نیک اعمال کرتے ہیں۔ انہیں ہی وہ عظیم کامیابی نصیب ہوگی جو اللہ نے اپنے نیک بندوں کے لیے تیار کی ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ دنیا کا مال و دولت، شہرت اور عیش و آرام کبھی بھی اللہ کے ثواب کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اللہ کا انعام ابدی ہے، جبکہ دنیا کی چیزیں چند دنوں کی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی نگاہیں آخرت پر رکھیں، نیک اعمال کریں اور صبر کریں، کیونکہ صبر ہی وہ کلید ہے جو ہمیں اللہ کی رضا اور اس کے ابدی انعام تک پہنچاتی ہے۔ یاد رکھیں، جو لوگ دنیا کی چمک دمک سے متاثر ہو کر اللہ کو بھول جاتے ہیں، وہ حقیقی نقصان میں ہیں، لیکن جو صبر کرتے ہیں اور اللہ کی اطاعت پر قائم رہتے ہیں، وہی کامیاب ہیں۔
بولا کہ یہ (مال) مجھے میری دانش (کے زور) سے ملا ہے کیا اس کو معلوم نہیں کہ خدا نے اس سے پہلے بہت سی اُمتیں جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمعیت میں بیشتر تھیں ہلاک کر ڈالی ہیں۔ اور گنہگاروں سے اُن کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا
تو (ایک روز) قارون (بڑی) آرائش (اور ٹھاٹھ) سے اپنی قوم کے سامنے نکلا۔ جو لوگ دنیا کی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے کہ جیسا (مال ومتاع) قارون کو ملا ہے کاش ایسا ہی ہمیں بھی ملے۔ وہ تو بڑا ہی صاحب نصیب ہے
اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے کہ تم پر افسوس۔ مومنوں اور نیکوکاروں کے لئے (جو) ثواب خدا (کے ہاں تیار ہے وہ) کہیں بہتر ہے اور وہ صرف صبر کرنے والوں ہی کو ملے گا
اور وہ لوگ جو کل اُس کے رتبے کی تمنا کرتے تھے صبح کو کہنے لگے ہائے شامت! خدا ہی تو اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ اگر خدا ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا۔ ہائے خرابی! کافر نجات نہیں پا سکتے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔