اور ہم نے نوحؑ کو اُن کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس برس کم ہزار برس رہے پھر اُن کو طوفان (کے عذاب) نے آپکڑا۔ اور وہ ظالم تھے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لَبِثَ: رہے، قیام کیا
الطُّوفَانُ: وہ طغیانی اور سیلاب جو ہر چیز کو گھیر لے، یہاں مراد غرقاب کا عذاب ہے
ظَالِمُونَ: ظلم کرنے والے، یعنی شرک اور کفر کے مرتکب
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ انہوں نے اپنی قوم کے درمیان پورے نو سو پچاس (950) سال گزارے — یعنی ایک ہزار سال مگر پچاس سال کم۔ اتنی طویل مدت تک وہ اپنی قوم کو توحید کی طرف بلاتے رہے، شرک اور بت پرستی سے منع کرتے رہے، اور اللہ کے عذاب سے ڈراتے رہے۔ مگر ان کی قوم نے نہ صرف ان کی دعوت کو رد کیا بلکہ سرکشی اور کفر پر ڈٹی رہی۔ جب انہوں نے حق کو قبول نہ کیا اور ظلم و طغیان پر اصرار کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں طوفان کے ذریعے پکڑ لیا — ایک ایسا طوفان جو پانی کے سیلاب کی صورت میں آیا اور ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے گیا، یہاں تک کہ وہ سب غرق ہو گئے۔ یہ عذاب اس لیے آیا کہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے، کیونکہ انہوں نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اور اپنے نبی کو جھٹلایا۔
دعوتی پہلو:
اس واقعے میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے 950 سال تک صبر اور استقامت کے ساتھ دعوت دی، مگر ان کی قوم نے ہدایت قبول نہ کی۔ یہ بتاتا ہے کہ حق پر قائم رہنے والوں کو کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، چاہے مخالفت کتنی ہی طویل ہو۔ ساتھ ہی یہ بھی سبق ہے کہ اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے — جو لوگ ظلم اور کفر پر اصرار کریں، انہیں اللہ کا عذاب ضرور آ کر رہتا ہے۔ آج بھی جو لوگ اللہ کے رسولوں کی تعلیمات کو نظر انداز کرتے ہیں اور اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں، وہ اسی انجام سے ڈریں۔ اللہ تعالیٰ رحم کرنے والا ہے، لیکن وہ انتقام لینے میں بھی بہت سخت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کو اللہ کے حکموں کے مطابق ڈھالیں، توحید پر قائم رہیں، اور شرک اور گناہوں سے بچیں تاکہ ہم اس عظیم عذاب سے محفوظ رہیں جو پہلی قوموں پر آیا تھا۔
اور جو کافر ہیں وہ مومنوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے طریق کی پیروی کرو ہم تمہارے گناہ اُٹھالیں گے۔ حالانکہ وہ اُن کے گناہوں کا کچھ بھی بوجھ اُٹھانے والے نہیں۔ کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔