ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَثْقَالَهُمْ: ان کے اعمال کا بوجھ، یعنی گناہوں کا بوجھ۔
- أَثْقَالًا مَعَ أَثْقَالِهِمْ: ان کے اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بھی بوجھ، یعنی ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ جنہیں انہوں نے گمراہ کیا۔
- يَفْتَرُونَ: جھوٹ باندھتے ہیں، بہتان تراشتے ہیں۔
تفسیر:
یہ آیت ان مشرکین اور گمراہ کرنے والے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے تھے اور اپنے باطل عقائد کو پھیلاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ قیامت کے دن نہ صرف اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھائیں گے بلکہ ان لوگوں کے گناہوں کا بھی بوجھ اٹھائیں گے جنہیں انہوں نے گمراہ کیا، اور یہ بوجھ ان کے اپنے بوجھوں کے ساتھ مزید بڑھ جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص خود گناہ کرتا ہے اور دوسروں کو بھی گناہ کی دعوت دیتا ہے، وہ قیامت کے دن دوہرے گناہ کا ذمہ دار ہوگا۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان سے قیامت کے دن ضرور پوچھ گچھ ہوگی، لیکن یہ سوال محض معلومات حاصل کرنے کے لیے نہیں ہوگا بلکہ سوالِ توبیخ ہوگا، یعنی انہیں جھڑکنے اور ان پر الزام ثابت کرنے کے لیے پوچھا جائے گا کہ تم نے اللہ پر جھوٹ کیوں باندھے؟ تم نے اللہ کے بارے میں کیوں جھوٹی باتیں پھیلائیں؟ تم نے حرام کو حلال اور حلال کو حرام کیوں کہا؟ تم نے اللہ کے ساتھ شرک کیوں کیا؟ یہ سوال ان کے چہروں کو سیاہ کرنے اور انہیں رسوا کرنے کے لیے ہوگا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے اعمال کا خود ذمہ دار بننا چاہیے اور کبھی کسی کو گمراہ کرنے کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ اگر کوئی شخص کسی کو برائی کی دعوت دیتا ہے یا اسے گناہ پر اکساتا ہے، تو وہ قیامت کے دن اس کے گناہ کا بھی بوجھ اٹھائے گا۔ یہ بات ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے کہ ہم اپنے اردگرد کے لوگوں کو نیکی کی دعوت دیں، انہیں برائی سے روکیں، اور کبھی اپنے عمل یا قول سے کسی کو اللہ کے راستے سے نہ بھٹکائیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ قیامت کا دن حقیقی ہے اور ہر شخص سے اس کے اعمال کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اس دن کے لیے تیاری کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اور اللہ کی رحمت اور مغفرت کے طلب گار بنیں۔ اللہ تعالیٰ بہت رحیم اور کریم ہے، وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ آئیے ہم سب اپنی زندگیوں کو سنواریں، اللہ کے احکامات پر عمل کریں، اور اپنے پیارے نبی ﷺ کی سنت کو اپنائیں تاکہ ہم قیامت کے دن کامیاب ہو سکیں۔
📜 آیت 11-15 — عنکبوت
ترجمہ — عنکبوت 13
سورہ عنکبوت آیت 13 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور یہ اپنے بوجھ بھی اُٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں…سورہ آیت 13/69 — عنکبوت العنكبوت (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: عنکبوت سنیں, عنکبوت ترجمہ, عنکبوت mp3, عنکبوت pdf. آیت 11–15. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








