عنکبوت · 29/69
ترجمہ تلفظ — عنکبوت
أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُونَ السَّبِيلَ وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنكَرَ ۖ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَن قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ ۝٢٩
A`innakum lataatoonar rijaala wa taqta`oonas sabeela wa taatoona fee naadekumul munkara famaa kaana jawaaba qawmiheee illaaa an qaalu` tinaaa bi`azaabil laahi in kunta minas saadiqeen
📖 اردو ترجمہ
تم کیوں (لذت کے ارادے سے) لونڈوں کی طرف مائل ہوتے اور (مسافروں کی) رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو۔ تو اُن کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • تَأْتُونَ الرِّجَالَ: مردوں کے پاس جاتے ہو (یعنی ان سے بدفعلی کرتے ہو
  • تَقْطَعُونَ السَّبِیلَ: راستہ بند کرتے ہو (مسافروں کو راستے میں روک کر انہیں ایذا دیتے ہو
  • نَادِیکُمُ: اپنی مجلس یا بیٹھک میں۔
  • الْمُنکَرَ: وہ برے کام جو شرع اور عقل دونوں کے نزدیک قبیح ہیں، جیسے بے حیائی، لوگوں کا مذاق اڑانا، راہگیروں کو ستانا وغیرہ۔

تفسیر:

حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس وقت نصیحت کی جب وہ ایسی برائیوں میں مبتلا تھیں جو دنیا کی کسی قوم نے ان سے پہلے نہ کی تھیں۔ وہ مردوں کے پاس شہوت رانی کے لیے جاتے، راستوں پر بیٹھ کر مسافروں کو روکتے اور ان کے ساتھ بدفعلی کرتے، اور اپنی مجالس میں بھی ایسے قبیح کام کرتے جو اللہ اور اس کے رسول کی نظر میں سخت ناپسندیدہ ہیں۔ یہ وہ منکرات تھے جنہوں نے معاشرے کی فطرت کو تباہ کر رکھا تھا۔

نبی اللہ لوط علیہ السلام نے انہیں ان برائیوں سے روکا اور اللہ کے عذاب سے ڈرایا، لیکن قوم کا جواب انتہائی گستاخانہ تھا۔ انہوں نے طنزاً کہا: "اگر تم سچے ہو تو اللہ کا عذاب لے آؤ!" یہ جواب ان کی سرکشی اور استہزاء کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ اپنی برائیوں پر اصرار کرتے رہے اور اللہ کے عذاب کو مذاق سمجھتے رہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ معاشرے میں برائیوں کا رواج، خاص طور پر بے حیائی اور راستے میں ایذا رسانی، اللہ کے غضب کا سبب بنتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی مجالس اور اجتماعات کو پاکیزہ رکھیں، کسی کو ایذا نہ دیں، اور اللہ کے احکامات پر عمل کریں۔ یاد رکھیں، اللہ کی رحمت کے دروازے توبہ کرنے والوں کے لیے کھلے ہیں، لیکن جو لوگ نبیوں کی نصیحت کو جھٹلاتے ہیں، ان کا انجام عبرتناک ہوتا ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو قرآن کی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں تاکہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوں۔



📜 آیت 27-31 — عنکبوت

27وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ
اور ہم نے اُن کو اسحٰق اور یعقوب بخشے اور اُن کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (مقرر) کر دی اور ان کو دنیا میں بھی اُن کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے
28وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِينَ
اور لوط (کو یاد کرو) جب اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم (عجب) بےحیائی کے مرتکب ہوتے ہو۔ تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے ایسا کام نہیں کیا
29أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُونَ السَّبِيلَ وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنكَرَ ۖ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَن قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ
تم کیوں (لذت کے ارادے سے) لونڈوں کی طرف مائل ہوتے اور (مسافروں کی) رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو۔ تو اُن کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ
30قَالَ رَبِّ انصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ
لوط نے کہا کہ اے میرے پروردگار ان مفسد لوگوں کے مقابلے میں مجھے نصرت عنایت فرما
31وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَىٰ قَالُوا إِنَّا مُهْلِكُو أَهْلِ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ ۖ إِنَّ أَهْلَهَا كَانُوا ظَالِمِينَ
اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشی کی خبر لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کر دینے والے ہیں کہ یہاں کے رہنے والے نافرمان ہیں
عنکبوتقرآن فہرست
69آیت
مکیRevelation
29آیت

ترجمہ — عنکبوت 29

سورہ عنکبوت آیت 29 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تم کیوں (لذت کے ارادے سے) لونڈوں کی طرف مائل…

سورہ آیت 29/69 — عنکبوت العنكبوت (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: عنکبوت سنیں, عنکبوت ترجمہ, عنکبوت mp3, عنکبوت pdf. آیت 27–31. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں