عنکبوت · 30/69
ترجمہ تلفظ — عنکبوت
قَالَ رَبِّ انصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ ۝٣٠
Qaala Rabbin surnee `alal qawmil mufsideen
📖 اردو ترجمہ
لوط نے کہا کہ اے میرے پروردگار ان مفسد لوگوں کے مقابلے میں مجھے نصرت عنایت فرما
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • رَبِّ: اے میرے پروردگار!
  • انصُرْنِي: میری مدد فرما۔
  • الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ: فساد پھیلانے والی قوم۔

تفسیرِ آیہ:

حضرت لوط علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو نصیحت کی اور انہیں اس گھناؤنے فعل سے روکنے کی بھرپور کوشش کی، تو ان کی قوم نے نہ صرف ان کی بات ماننے سے انکار کیا بلکہ ڈھٹائی اور سرکشی میں حد سے گزر گئی۔ انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام کو دھمکیاں دیں اور کہا کہ اگر تم باز نہ آئے تو تمہیں شہر سے نکال دیا جائے گا۔ جب نبی کریم لوط علیہ السلام نے دیکھا کہ قوم پر نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہو رہا اور وہ اپنی بداعمالیوں پر اصرار کر رہے ہیں، اور یہ کہ وہ لوگوں کو بھی اپنے اس فساد کی طرف مائل کر رہے ہیں، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی: "اے میرے رب! ان مفسد لوگوں کے خلاف میری مدد فرما۔"

یہ دعا ایک نبی کی معصومانہ دعا تھی، جو اس وقت کی گئی جب انہوں نے اپنی قوم کی اصلاح سے مایوسی حاصل کر لی تھی۔ انہوں نے اللہ سے درخواست کی کہ وہ ان کے قول کی تصدیق کرے اور ان مفسدین پر عذاب نازل فرمائے، کیونکہ یہ لوگ زمین میں فساد پھیلا رہے تھے، کفر و معاصی کو عام کر رہے تھے، اور اس قدر گھناؤنے کاموں کا ارتکاب کر رہے تھے جو ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی یہ دعا قبول فرمائی اور ان پر عذاب نازل کیا۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب انسان اپنی اصلاح کی تمام کوششیں کر لے اور پھر بھی لوگ نہ مانیں، تو اللہ سے مدد مانگنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حق پر قائم رہنے والوں کو کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، چاہے مخالفین کتنے ہی زیادہ ہوں۔ حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے حق پیش کیا، صبر کیا، اور جب انتہا ہو گئی تو اللہ سے مدد مانگی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور انہیں فتح عطا کی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے معاشرے میں برائیوں کے خلاف آواز اٹھائیں، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں، اور جب ہماری کوششیں بے اثر ہوں تو اللہ سے مدد مانگیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی مدد ضرور فرماتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ سے دعا کرنا کتنی بڑی طاقت ہے، اور یہ کہ مومن کی دعا کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔

🎧 سنیں

📜 آیت 28-32 — عنکبوت

28وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِينَ
اور لوط (کو یاد کرو) جب اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم (عجب) بےحیائی کے مرتکب ہوتے ہو۔ تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے ایسا کام نہیں کیا
29أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُونَ السَّبِيلَ وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنكَرَ ۖ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَن قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ
تم کیوں (لذت کے ارادے سے) لونڈوں کی طرف مائل ہوتے اور (مسافروں کی) رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو۔ تو اُن کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ
30قَالَ رَبِّ انصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ
لوط نے کہا کہ اے میرے پروردگار ان مفسد لوگوں کے مقابلے میں مجھے نصرت عنایت فرما
31وَلَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَىٰ قَالُوا إِنَّا مُهْلِكُو أَهْلِ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ ۖ إِنَّ أَهْلَهَا كَانُوا ظَالِمِينَ
اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشی کی خبر لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کر دینے والے ہیں کہ یہاں کے رہنے والے نافرمان ہیں
32قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا ۚ قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا ۖ لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ
ابراہیم نے کہا کہ اس میں تو لوط بھی ہیں۔ وہ کہنے لگے کہ جو لوگ یہاں (رہتے) ہیں ہمیں سب معلوم ہیں۔ ہم اُن کو اور اُن کے گھر والوں کو بچالیں گے بجز اُن کی بیوی کے وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی
عنکبوتقرآن فہرست
69آیت
مکیRevelation
30آیت

ترجمہ — عنکبوت 30

سورہ عنکبوت آیت 30 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : لوط نے کہا کہ اے میرے پروردگار ان مفسد لوگوں…

سورہ آیت 30/69 — عنکبوت العنكبوت (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: عنکبوت سنیں, عنکبوت ترجمہ, عنکبوت mp3, عنکبوت pdf. آیت 28–32. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں