اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشی کی خبر لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کر دینے والے ہیں کہ یہاں کے رہنے والے نافرمان ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
رُسُلُنَا: ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے۔
بِالْبُشْرَىٰ: خوشخبری کے ساتھ۔
مُهْلِكُو: ہلاک کرنے والے۔
الْقَرْيَةِ: بستی (یہاں سدوم مراد ہے)۔
ظَالِمِينَ: ظلم کرنے والے، اپنے اوپر ظلم کرنے والے۔
تفسیر:
جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس خوشخبری لے کر آئے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیٹا اسحاق اور اسحاق کے بعد ان کا بیٹا یعقوب عطا ہوگا، تو اس خوشخبری کے ساتھ ہی ان فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک اور اہم بات بھی بتائی۔ انہوں نے کہا: "ہم اس بستی (سدوم) کے رہنے والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں، کیونکہ اس بستی کے لوگ ظالم ہیں۔" یہ بستی حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی بستی تھی، جہاں کے لوگ اللہ کی نافرمانی میں حد سے گزر گئے تھے اور ایسے گناہوں میں مبتلا تھے جن کی مثال دنیا میں کسی نے نہیں دی تھی۔ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کر رہے تھے، کیونکہ انہوں نے اللہ کی رحمت کو ٹھکرا دیا تھا اور اپنے لیے عذاب کا سامان کر لیا تھا۔
یہاں سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور عذاب دونوں اس کے حکم سے آتے ہیں۔ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خوشخبری ملی، اسی طرح قوم لوط کے لیے عذاب کا فیصلہ ہو چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو مہلت ضرور دیتا ہے، لیکن جب وہ حد سے گزر جاتے ہیں تو ان کی گرفت نہایت سخت ہوتی ہے۔
پیارے بھائیو اور بہنو! ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں ظلم سے بچیں، چاہے وہ ظلم اللہ کے حقوق میں ہو یا بندوں کے حقوق میں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت شدید ہے۔ آئیے ہم اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اللہ کی رحمت کے طالب بنیں، کیونکہ وہی ہے جو توبہ کرنے والوں کو معاف کرتا ہے اور اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔ یہ قرآن ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی اطاعت ہی نجات کا راستہ ہے، اور ظلم و نافرمانی ہلاکت کا سبب بنتی ہے۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔
تم کیوں (لذت کے ارادے سے) لونڈوں کی طرف مائل ہوتے اور (مسافروں کی) رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو۔ تو اُن کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ
ابراہیم نے کہا کہ اس میں تو لوط بھی ہیں۔ وہ کہنے لگے کہ جو لوگ یہاں (رہتے) ہیں ہمیں سب معلوم ہیں۔ ہم اُن کو اور اُن کے گھر والوں کو بچالیں گے بجز اُن کی بیوی کے وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی
اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ اُن (کی وجہ) سے ناخوش اور تنگ دل ہوئے۔ فرشتوں نے کہا کچھ خوف نہ کیجئے۔ اور نہ رنج کیجئے ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچالیں گے مگر آپ کی بیوی کہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔