Qaala inna feeha Lootaa; qaaloo nahnu a`lamu biman feehaa lanunajjjiyannahoo wa ahlahooo illam ra atahoo kaanat minal ghaabireen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
ابراہیم نے کہا کہ اس میں تو لوط بھی ہیں۔ وہ کہنے لگے کہ جو لوگ یہاں (رہتے) ہیں ہمیں سب معلوم ہیں۔ ہم اُن کو اور اُن کے گھر والوں کو بچالیں گے بجز اُن کی بیوی کے وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
گفت: لوط در آنجاست. گفتند: ما بهتر مىدانيم چه كسى در آنجاست. او و خاندانش را -جز زنش را كه در همان جا خواهد ماند- نجات مىدهيم.
ابراہیم نے کہا کہ اس میں تو لوط بھی ہیں۔ وہ کہنے لگے کہ جو لوگ یہاں (رہتے) ہیں ہمیں سب معلوم ہیں۔ ہم اُن کو اور اُن کے گھر والوں کو بچالیں گے بجز اُن کی بیوی کے وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لُوطًا: حضرت لوط علیہ السلام، جو اس بستی میں رہتے تھے۔
الْغَابِرِينَ: باقی رہنے والے، ہلاک ہونے والے، عذاب میں پیچھے رہ جانے والے۔
تفسیر:
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب فرشتوں سے سنا کہ وہ اس بستی والوں کو ہلاک کرنے آئے ہیں، تو انہیں اپنے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کی فکر لاحق ہوئی۔ انہوں نے شفقت اور محبت کے عالم میں فرشتوں سے کہا: "اس بستی میں تو لوط بھی موجود ہیں!" گویا وہ انہیں متنبہ کرنا چاہتے تھے کہ ان پر ظلم نہ ہو، کیونکہ لوط علیہ السلام نیک اور صالح نبی ہیں۔
فرشتوں نے جواب دیا: "ہم اس بستی والوں کو زیادہ جانتے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ کون نیک ہے اور کون بدکار۔ آپ فکر نہ کریں، ہم لوط علیہ السلام کو اور ان کے اہل خانہ کو ضرور بچا لیں گے، سوائے ان کی بیوی کے، جو ہلاک ہونے والوں میں باقی رہے گی۔" اس طرح فرشتوں نے یقین دلایا کہ اللہ کا عذاب صرف ظالموں پر نازل ہوگا، اور نیک لوگ اس سے محفوظ رہیں گے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے، یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے، چاہے وہ گناہ گاروں کی بستی میں ہی کیوں نہ رہتے ہوں۔ دوسرے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شفقت اور رحم دلی ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے ایمان والوں کی فکر کرنی چاہیے، چاہے وہ کہیں بھی ہوں۔ تیسرے، یہ کہ اللہ کا علم سب سے کامل ہے، وہ جانتا ہے کہ کس کے دل میں ایمان ہے اور کس کا انجام کیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ وہ اپنے مخلص بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ گناہوں کا انجام ہلاکت ہے، چاہے انسان کسی بھی خاندان یا گھرانے سے تعلق رکھتا ہو، جیسا کہ لوط علیہ السلام کی بیوی کو ان کے ساتھ رہنے کے باوجود نجات نہ ملی، کیونکہ اس کا دل کافروں کے ساتھ تھا۔ لہٰذا، ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط کرنا چاہیے اور اپنے اعمال کو نیک بنانا چاہیے تاکہ ہم اللہ کی رحمت اور نجات کے مستحق بن سکیں۔
ابراہیم نے کہا کہ اس میں تو لوط بھی ہیں۔ وہ کہنے لگے کہ جو لوگ یہاں (رہتے) ہیں ہمیں سب معلوم ہیں۔ ہم اُن کو اور اُن کے گھر والوں کو بچالیں گے بجز اُن کی بیوی کے وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی
اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس آئے تو وہ اُن (کی وجہ) سے ناخوش اور تنگ دل ہوئے۔ فرشتوں نے کہا کچھ خوف نہ کیجئے۔ اور نہ رنج کیجئے ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچالیں گے مگر آپ کی بیوی کہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔